واشنگٹن (ویب ڈیسک): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اوول آفس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن تہران امریکہ کو “بلیک میل” نہیں کر سکتا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، تاہم امریکہ کسی بھی قسم کے دباؤ میں نہیں آئے گا۔
دوسری جانب سمندری حفاظتی ذرائع کے مطابق، ہفتے کے روز آبنائے ہرمز عبور کرنے کی کوشش کرنے والے دو تجارتی جہازوں پر فائرنگ کی گئی ہے۔ یہ واقعہ ایران کے اس اعلان کے فوری بعد پیش آیا جس میں اس نے آبی گزرگاہ پر دوبارہ سخت فوجی کنٹرول نافذ کرنے کا کہا تھا۔ بحری ٹریکرز کے مطابق، سات ہفتوں کی جنگ کے بعد آٹھ ٹینکرز پر مشتمل پہلا بڑا قافلہ وہاں سے گزر رہا تھا کہ ایران نے راستہ بند کرنے کا ریڈیو پیغام جاری کر دیا۔
ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے ٹیلی گرام چینل پر ایک جارحانہ پیغام میں کہا ہے کہ ایرانی بحریہ دشمنوں کو “نئی تلخ شکست” دینے کے لیے مکمل تیار ہے۔ یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے عالمی امور پر گفتگو کرتے ہوئے اسپین کی معاشی صورتحال کو “قابل افسوس” قرار دیا۔ انہوں نے اسپین کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ اس نے نیٹو کے لیے اپنے جی ڈی پی کا 5 فیصد دفاع پر خرچ کرنے کی شرط پوری نہیں کی۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکہ کو اپنی کارروائیوں کے لیے کسی کی اجازت کی ضرورت نہیں اور اسپین کے پاس ایسا کچھ نہیں جو امریکہ کو درکار ہو۔
امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ان کی انتظامیہ نے ادویات کی قیمتوں میں 50 سے 80 فیصد تک کمی کر دی ہے اور امریکہ میں منشیات کی اسمگلنگ میں بھی واضح کمی آئی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ آج دن کے اختتام تک ایران کے حوالے سے “اہم معلومات” فراہم کریں گے۔
