لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

آئی سی ای (ICE) ایجنٹ کی تحویل کاتنازع: امریکی وفاقی عدالت نےٹیکساس کوایجنٹ حوالہ کرنےپرمجبورکرنےسےانکارکردیا

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

ٹیکساس: ایک امریکی وفاقی جج نے امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے ایجنٹ کرسچن کاسٹرو (Christian Castro) کی تحویل اور بالادستی سے متعلق سیاسی طور پر حساس کیس میں مداخلت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ایجنٹ پر رواں سال کے اوائل میں منیاپولس (Minneapolis) میں ایک تارکینِ وطن پر فائرنگ کرنے کے الزام میں منیسوٹا میں مجرمانہ مقدمات درج ہیں۔

منیسوٹا کے ڈیموکریٹک گورنر ٹم والز (Tim Walz) نے داد رسی کی درخواست کرتے ہوئے عدالت سے مطالبہ کیا تھا کہ ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ (Greg Abbott) کو ایجنٹ منیسوٹا کے حوالے کرنے کا حکم دیا جائے۔ تاہم، جج فرنینڈو روڈریگز جونیئر نے اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ فی الوقت اس بات کے ثبوت نہیں ہیں کہ ٹیکساس کے گورنر نے وفاقی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔

مئی میں ٹیکساس رینجرز نے کرسچن کاسٹرو کو حراست میں لیا تھا۔ ان پر منیاپولس میں آپریشن میٹرو سرج کے دوران خولیو سوسا-سیلس (Julio Sosa-Celis) نامی شخص کی ٹانگ میں گولی مارنے کا الزام ہے۔

ٹیکساس حکام کا مؤقف ہے کہ وہ اس بات کا جائزہ لے رہے ہیں کہ آیا ایجنٹ تکنیکی طور پر “مفرور” کے زمرے میں آتا بھی ہے یا نہیں، کیونکہ انہیں واقعے کے بعد سرکاری احکامات کے تحت واپس ٹیکساس بھیجا گیا تھا۔

ٹیکساس کے قانون کے تحت مفرور شخص کو 90 دن سے زیادہ قید میں نہیں رکھا جا سکتا، جس کی وجہ سے ایجنٹ کی رہائی کا امکان پیدا ہو گیا ہے۔

منیسوٹا کے وکلاء کا کہنا ہے کہ ایجنٹ کے میکسیکو میں تعلقات کی وجہ سے ان کے وہاں فرار ہونے کا خطرہ موجود ہے۔

منیسوٹا کے اٹارنی جنرل کیتھ ایلیسن (Keith Ellison) نے فیصلے کے بعد عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ کیس پر قانونی جنگ جاری رکھیں گے تاکہ ایجنٹ کو منیسوٹا کے قانون کا سامنا کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔