ہیوسٹن (ویب ڈیسک): امریکہ میں فیفا ورلڈ کپ کے آغاز سے قبل، ٹیکساس کے بش انٹرکانٹینینٹل ایئرپورٹ (Bush Airport) پر وسطی افریقہ کے ایبولا زدہ علاقوں سے آنے والے مسافروں کی ہیلتھ اسکریننگ منگل سے شروع کی جا رہی ہے۔
یو ایس کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے مطابق، ہیوسٹن ملک کے ان تین مخصوص ایئرپورٹس میں شامل ہے جہاں متاثرہ علاقوں سے آنے والے مسافروں کو لینڈنگ کی اجازت دی گئی ہے۔
شہری انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ کے لیے تقریباً 5 لاکھ شائقین کی ہیوسٹن آمد متوقع ہے، جن میں وائرس سے متاثرہ علاقوں کے مسافر بھی شامل ہیں۔ جمہوریہ کانگو (DRC) میں ایبولا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے، جہاں عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق اب تک 900 سے زائد مشکوک کیسز اور 115 اموات رپورٹ ہو چکی ہیں۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ جمہوریہ کانگو کی قومی فٹ بال ٹیم نے ورلڈ کپ کے لیے ہیستان کو ہی اپنا بیس کیمپ منتخب کیا ہے۔ حکام کے مطابق، کانگو کی ٹیم کو ٹورنامنٹ میں شرکت سے قبل لازمی قرنطینہ (Quarantine) کی مدت پوری کرنی ہوگی، بصورتِ دیگر انہیں امریکہ میں داخلے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ دوسری جانب ہیرس کاؤنٹی کی جج لینا ہیڈالگو نے بتایا کہ یوگنڈا سے 7 افراد ہیرس کاؤنٹی واپس پہنچے ہیں، تاہم ان میں سے کسی کا بھی ایبولا ٹیسٹ مثبت نہیں آیا۔
سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول (CDC) کا کہنا ہے کہ ایبولا ایک انتہائی مہلک وائرس ہے جو مریض کے جسمانی رطوبتوں (Bodily fluids) کے براہ راست رابطے سے پھیلتا ہے۔
ماہرینِ صحت کے مطابق یہ ایک مختلف قسم (Variant) ہے جس کی فی الحال کوئی ویکسین یا علاج دستیاب نہیں ہے۔ ایئر لائنز ایسے تمام مسافروں کی شناخت کریں گی جنہوں نے حال ہی میں افریقی ممالک کا سفر کیا ہے۔ تاہم، ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ کے دوران عام عوام کو وائرس کا خطرہ انتہائی کم ہے اور اسکریننگ کے انتظامات مکمل ہیں۔




