نیویارک (ویب ڈیسک): امریکی مارکیٹ میں سونے کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا دھماکہ خیز اچھال دیکھنے میں آیا ہے۔ گزشتہ کچھ دنوں سے جاری مندی کا رجحان اچانک ختم ہو گیا اور عالمی مارکیٹ میں اسپاٹ گولڈ (Spot Gold) کی قیمت 2 فیصد سے زائد کے زبردست اضافے کے ساتھ 4,084 ڈالر فی اونس کی سطح پر پہنچ گئی ہے۔
اہرین کے مطابق، سونے کی قیمتوں میں اس اچانک اور بڑی تیزی کی اصل وجہ امریکہ کے افراطِ زر (Inflation) کے نئے اعداد و شمار ہیں۔ امریکی بیورو آف لیبر اسٹیٹسٹکس کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق، جون کے مہینے میں کنزیومر پرائس انڈیکس (CPI) میں توقع سے کہیں زیادہ کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو کہ 2020 کے بعد ماہانہ بنیادوں پر سب سے بڑی گراوٹ ہے۔ مہنگائی کی شرح میں اس غیر متوقع کمی کے بعد سالانہ افراطِ زر کی شرح 3.5 فیصد پر آ گئی ہے۔
مہنگائی کم ہونے کی اس رپورٹ نے امریکی فیڈرل ریزرو (Fed) کی جانب سے شرح سود میں مزید اضافے کے خدشات کو فی الوقت کم کر دیا ہے، جس کے باعث عالمی مارکیٹ میں امریکی ڈالر کی قدر میں 0.5 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ ڈالر کمزور ہونے اور بانڈ ییلڈز گرنے سے سرمایہ کاروں نے ایک بار پھر سونے کا رخ کر لیا ہے، جس نے سونے کی گرتی ہوئی قیمتوں کو مضبوط سہارا فراہم کیا ہے۔
مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر آنے والے دنوں میں امریکی لیبر مارکیٹ بھی کمزور دکھائی دی، تو سونے کی قیمتوں میں مزید تیزی آ سکتی ہے اور یہ دوبارہ اپنے پرانے ریکارڈز کی طرف بڑھ سکتا ہے۔





