لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

کینسرسےدنیابھرمیں روزانہ 26 ہزاراموات،عالمی ادارہ صحت

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

جنیوا (ویب ڈیسک): عالمی ادارہ صحت (WHO) اور کینسر پر تحقیق کے ماہر بین الاقوامی ادارے (IARC) نے کینسر کے عالمی پھیلاؤ کے حوالے سے سال 2026 کی نئی رپورٹ جاری کر دی ہے۔

رپورٹ کے سنسنی خیز اعداد و شمار کے مطابق، دنیا بھر میں کینسر کے باعث روزانہ 26,000 سے زائد افراد زندگی کی بازی ہار رہے ہیں، جبکہ سالانہ بنیادوں پر کینسر کے 2 کروڑ 6 لاکھ سے زیادہ نئے کیسز اور لگ بھگ 1 کروڑ اموات ریکارڈ کی جا رہی ہیں۔ دل کے امراض کے بعد کینسر دنیا میں موت کی دوسری بڑی وجہ بن چکا ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم غیبریسوس نے رپورٹ پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

“کینسر ایک انتہائی ذاتی نوعیت کی بیماری ہے جو ہم میں سے تقریباً ہر شخص کو متاثر کرتی ہے۔ لیکن کوئی کینسر سے بچے گا یا نہیں، اس کا انحصار اس بات پر ہرگز نہیں ہونا چاہیے کہ وہ کس ملک میں پیدا ہوا ہے یا کتنا کماتا ہے۔ رپورٹ میں سامنے آنے والی یہ تفریق ناگزیر نہیں بلکہ غلط ترجیحات کا نتیجہ ہے، جسے مضبوط اور متحد اقدامات سے بدلا جا سکتا ہے۔”

رپورٹ کے مطابق، امیر اور غریب ممالک میں کینسر کے مریضوں کے بچنے کی شرح میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ ہائی انکم (امیر) ممالک میں چھاتی کے کینسر (Breast Cancer) میں مبتلا 87 فیصد خواتین تشخیص کے بعد کم از کم 5 سال تک زندہ رہ جاتی ہیں، جبکہ کم آمدنی والے (غریب) ممالک میں یہ شرح گر کر صرف 42 فیصد رہ جاتی ہے۔ دنیا کے ایک تہائی سے بھی کم ممالک نے کینسر کے علاج کو اپنے یونیورسل ہیلتھ کوریج پیکجز میں شامل کر رکھا ہے، جس کی وجہ سے کروڑوں مریض سستی تشخیص اور علاج سے محروم ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے پہلے عالمی سروے کے مطابق:
45 فیصد کینسر کے مریض شدید مالی مشکلات اور قرضوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔
50 فیصد سے زائد مریض ذہنی صحت کے مسائل (ڈپریشن اور اینزائٹی) کا سامنا کرتے ہیں۔
مریضوں کی دیکھ بھال کرنے والے (Caregivers) تقریباً تمام ہی افراد شدید سماجی تنہائی اور بلا معاوضہ ذمہ داریوں کے بوجھ تلے دب جاتے ہیں۔

براعظموں کی صورتحال اور پھیلاؤ:
آبادی کے لحاظ سے دنیا کے سب سے بڑے براعظم ایشیا میں کینسر کے کل کیسز اور اموات کا نصف سے زائد حصہ پایا گیا۔ دوسری طرف، یورپ میں دنیا کی محض 9 فیصد آبادی مقیم ہے، لیکن وہاں کینسر کے 21 فیصد کیسز اور 20 فیصد اموات ریکارڈ کی گئیں، جو کہ ایک غیر متناسب اور تشویشناک شرح ہے۔ افریقہ اور ایشیا کے بعض حصوں میں کیسز رپورٹ ہونے کی شرح تو کم ہے، لیکن وہاں بروقت علاج نہ ملنے کی وجہ سے اموات کی شرح بہت زیادہ ہے۔

پھیپھڑوں کا کینسر سب سے زیادہ مہلک:
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پھیپھڑوں کا کینسر (Lung Cancer) دنیا بھر میں اموات کی سب سے بڑی وجہ بنا ہوا ہے۔ مردوں میں پھیپھڑوں، پروسٹیٹ اور کولوریکٹل (آنتوں کا) کینسر سب سے عام ہے، جبکہ خواتین میں چھاتی (بیسٹ کینسر)، پھیپھڑوں اور آنتوں کا کینسر زیادہ پایا گیا۔ سال 2024 میں 24 لاکھ خواتین میں چھاتی کے کینسر کی تشخیص ہوئی جبکہ 6 لاکھ 94 ہزار اموات ہوئیں۔

بیماری سے بچاؤ ہی واحد حل:
رپورٹ کے مطابق، کینسر کے 10 میں سے 4 کیسز ایسے عوامل سے جڑے ہیں جن سے بچنا ممکن ہے، جیسے تمباکو نوشی، شراب نوشی، موٹاپا، سستی، غیر صحت بخش غذا، اور ہیپاٹائٹس بی، سی اور ایچ پی وی (HPV) جیسے انفیکشنز۔

آئی اے آر سی (IARC) کی ڈائریکٹر ڈاکٹر ایلیسبیٹ ویڈرپاس کا کہنا تھا کہ اب کینسر کی وجوہات بدل رہی ہیں اور موٹاپا، فضائی آلودگی اور غیر صحت بخش طرزِ زندگی اس کے بڑے محرکات بن رہے ہیں، اس لیے کینسر سے بچاؤ کو سیاسی اور حکومتی سطح پر اولین ترجیح بنانا ہوگا۔