تہران / واشنگٹن (18 اپریل 2026): عالمی توانائی کی اہم ترین گزرگاہ، آبنائے ہرمز کو کھولنے کے اعلان کے محض 24 گھنٹوں بعد ہی دوبارہ بند کرنے کے فیصلے نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو انتہائی غیر یقینی بنا دیا ہے۔
ایرانی پاسداران انقلاب (IRGC) نے اعلان کیا ہے کہ یہ آبی راستہ اپنی سابقہ حالت میں واپس آ گیا ہے اور اب اس کا مکمل کنٹرول ایرانی مسلح افواج کے پاس ہے۔
عالمی خبر رساں اداروں اور ٹریکنگ پلیٹ فارم ‘میرین ٹریفک’ کے مطابق، ہفتے کی صبح کم از کم 8 بڑے ٹینکرز اس اہم گزرگاہ سے گزرے تھے۔ تاہم، کچھ مزید خام تیل کے ٹینکرز ابھی بھی ایران کے لارک جزیرے کے قریب موجود ہیں، جہاں ایران کی سخت نگرانی کی وجہ سے جہازوں کی نقل و حرکت رک گئی ہے۔
ایران نے اس دوبارہ بندش کا ذمہ دار امریکہ کو قرار دیا ہے۔ ایرانی حکام کا موقف ہے کہ امریکہ ‘ناکہ بندی’ کی آڑ میں بحری قزاقی (Piracy) کر رہا ہے۔
تہران نے واضح کیا ہے کہ جب تک امریکہ ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی ختم نہیں کرتا، آبنائے ہرمز پر فوجی کنٹرول برقرار رہے گا۔
گزشتہ روز ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے اعلان پر امریکی صدر ٹرمپ نے اسے ایک “شاندار دن” قرار دیا تھا، لیکن موجودہ کشیدگی نے امن کی ان امیدوں پر دوبارہ پانی پھیر دیا ہے۔ اس بندش کی وجہ سے خلیج میں سیکڑوں جہاز پھنس گئے ہیں، سامان کی ترسیل مہنگی ہو گئی ہے اور عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں W4~z222Zمیں اضافے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
AAA
