نیویارک:نیویارک سٹی کونسل کی جانب سے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کی نگرانی اور ضوابط سے متعلق منعقدہ اہم اوور سائٹ سماعت کے دوران ایلن مسک کی کمپنی ‘SpaceXAI’ کا کوئی بھی نمائندہ پیش نہیں ہوا۔
نیویارک سٹی کونسل کی اسپیکر جولی مینن (Julie Menin) کے مطابق کمپنی کا یہ رویہ قانوناً جاری کردہ ‘سبپینا’ (Subpoena / عدالت یا کونسل کا لازمی احکامات کا نوٹس) کی براہِ راست خلاف ورزی ہے۔
اسپیکر جولی مینن نے بتایا کہ گزشتہ ہفتے کونسل نے نوٹس جاری کر کے کمپنی کو پیر کی صبح ہونے والی سماعت میں حاضری کا پابند کیا تھا۔ کونسل کی جانب سے نوٹس کی تعمیل نہ کرنے پر اب عدالت سے رجوع کیا جا رہا ہے۔
قانونی نتائج، دیگر کمپنیوں اور وشل بلورز کی شرکت:
قانون کی خلاف ورزی اور سزا: نیویارک اسٹیٹ کے سول پریکٹس لاء اینڈ رولز (CPLR) کے تحت سبپینا کی خلاف ورزی پر بھاری جرمانے، شریف (Sheriff) کے ذریعے زبردستی پیشی اور مسلسل انکار کی صورت میں جیل بھیجنے کی سزا ہو سکتی ہے۔ اسپیکر نے واضح کیا کہ کونسل اس معاملے کو عدالت میں لے جا رہی ہے۔
گوگل ڈیپ مائنڈ کے وشل بلور کی شرکت: کونسل نے گوگل ڈیپ مائنڈ (Google DeepMind) کے سابق محقق اور وشل بلور (Whistleblower) الیکس ٹرنر (Alex Turner) کو بھی نوٹس جاری کیا تھا، جنہوں نے سماعت میں حاضر ہو کر تفصیلی گواہی دی۔ اسپیکر مینن نے ان کی آمد پر خصوصی شکریہ ادا کیا۔
اوپن اے آئی (OpenAI)، گوگل، میٹا اور اینتھروپک (Anthropic) کے نمائندوں نے سبپینا کے انتباہ پر سماعت میں پیش ہونے اور شہادت دینے پر رضامندی ظاہر کی۔
اوپن اے آئی کے سابق محقق ڈینیئل کوکوتاجلو (Daniel Kokotajlo) اور اینتھروپک کے سابق محقق جیکب کوکسٹن (Jacob Coxton) نے بھی بطور وشل بلور کونسل کے سامنے اپنے بیانات قلمبند کرائے۔



