لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

پیرس: خاتون عملےکوالگ کرنےپرہڑتال،ایفل ٹاور ایک دن کی بندش کےبعددوبارہ کھول دیاگیا

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

پیرس: فرانس کے دارالحکومت پیرس کا عالمی شہرت یافتہ تاریخی شاہکار ایفل ٹاور (Eiffel Tower) عملے کی ایک روزہ احتجاجی ہڑتال ختم ہونے کے بعد سیاحوں کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ یہ ہڑتال ایک مذہبی وفد کے دورے کے دوران انتظامیہ کی جانب سے خاتون ملازمین کو نظروں سے اوجھل اور کام سے دور رکھنے کی ہدایت کے خلاف کی گئی تھی۔

رپورٹس کے مطابق ہندو مذہبی تنظیم ‘بوچاسن واسی اکشر پوروشوتم سوامی نارائن سنستھا’ (BAPS) کے ایک وفد کے دورے سے قبل ایفل ٹاور کی انتظامیہ نے اپنے عملے کو ہدایات جاری کی تھیں:

خاتون ملازمین کو مخصوص حصوں میں جانے سے روک دیا گیا، کچھ کو الگ کمروں میں بیٹھنے کی ہدایت کی گئی اور کئی مقامات پر خاتون عملے کی جگہ مرد ملازمین کو تعینات کر دیا گیا۔

ایفل ٹاور کے عملے نے پیر کے روز کام چھوڑ ہڑتال کر دی، جس سے ایفل ٹاور کی آمدورفت مکمل طور پر معطل ہو گئی۔ عملے کا کہنا تھا کہ یہ اقدام صنف کی بنیاد پر عدم مساوات اور امتیاز کی انتہائی شرمناک مثال ہے جو فرانسیسی جمہوری اقدار کے منافی ہے۔

ایفل ٹاور چلانے والی پبلک کمپنی (SETE) نے اعتراف کیا ہے کہ مذہبی وفد کی جانب سے “خواتین سے تعامل کو محدود کرنے” کی درخواست کی گئی تھی، جسے قبول کرنا انتظامیہ کی سنگین غلطی تھی۔

پیرس کے میئر ایمینوئل گریگوائر (Emmanuel Grégoire) اور سٹی ہال انتظامیہ نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے باقاعدہ معذرت کی ہے اور معاملے کی مکمل تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ دوسری جانب BAPS تنظیم نے بھی واقعے پر معذرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا مقصد کسی کی دل آزاری کرنا نہیں تھا۔