لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

ڈونلڈ ٹرمپ کاخودکوامریکہ کا’عظیم ترین‘صدر قراردینےکادعویٰ

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے خود کو تاریخ کا “عظیم ترین” (Greatest) امریکی صدر قرار دیا ہے اور ابراہم لنکن، فرینکلن ڈی روزویلٹ اور جارج واشنگٹن جیسے تاریخی رہنماؤں سے بھی اوپر جگہ دی ہے۔ تاہم، صدارتی تاریخ دانوں اور ماہرین نے اس خود ساختہ جائزہ کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

ٹرمپ کی پوسٹ میں امریکی صدور کو چھ مختلف زمروں میں تقسیم کیا گیا تھا جس میں “عظیم ترین” کے زمرے میں وہ اکیلے موجود تھے، جبکہ جو بائیڈن، باراک اوباما اور جمی کارٹر کو “ناکام” (Failures) صدور میں شامل کیا گیا۔

صدارتی سروے اور ماہرین کی رائے:

کوسٹل کیرولائنا یونیورسٹی کے پروفیسر اور ‘پریزیڈنشل گریٹ نیس پروجیکٹ’ (Presidential Greatness Project) کے شریک بانی جسٹن وان (Justin Vaughn) کے مطابق، ٹرمپ کا یہ دعویٰ ماہرین کے سروے کے نتائج کے بالکل برعکس ہے۔

پریزیڈنشل گریٹ نیس سروے: 154 اکادمی دانوں کے سروے میں ابراہم لنکن 93.87 اسکور کے ساتھ پہلے نمبر پر رہے، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ کو محض 10.92 اسکور ملا اور وہ تمام 45 صدور میں سب سے آخری (45 ویں) نمبر پر آئے۔

یونیورسٹی آف ورجینیا کی پروفیسر باربرا پیری (Barbara Perry) نے کہا کہ 6 جنوری کے کیپیٹل ہل حملے، الیکشن نتائج کو تسلیم نہ کرنے اور آئینی نظام کو کمزور کرنے جیسے اقدامات تاریخ میں ان کی درجہ بندی کو شدید متاثر کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ ماہرین کی دنیا میں ٹرمپ کسی صورت “عظیم” یا “عظیم ترین” زمرے میں نہیں آتے۔

دوسری جانب وائٹ ہاؤس کے ترجمان ڈیوڈ اینگل نے ٹرمپ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ صدر ٹرمپ کا فوکس ملک کو محفوظ اور خوشحال بنانا ہے اور وہ جدید امریکی تاریخ کے سب سے کامیاب اور مؤثر صدر کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔