Court Sentences Former NYPD Officer in Eric Duprey Death Case

Editor News

نیویارک(ویب ڈیسک): امریکہ کی ایک عدالت نے نیویارک پولیس (NYPD) کے ایک سابق افسر، ایرک ڈوران کو ایک مشتبہ شخص کی ہلاکت کے جرم میں تین سے نو سال قید کی سزا سنا دی ہے۔ یہ گزشتہ دو دہائیوں میں پہلا موقع ہے کہ نیویارک میں کسی حاضر سروس پولیس افسر کو دورانِ ڈیوٹی ہلاکت پر جیل بھیجا گیا ہے۔

اگست 2023 میں ایک کارروائی کے دوران 30 سالہ ایرک ڈوپری نے پولیس کو منشیات فروخت کیں اور فرار ہونے کی کوشش کی۔ سابق افسر ایرک ڈوران نے، جو اس وقت سادہ لباس میں تھے، فرار ہوتے ہوئے ڈوپری کو روکنے کے لیے برف اور مشروبات سے بھرا ایک بھاری ‘پکنک کولر’ ان کی طرف اچھالا۔ کولر لگنے سے ڈوپری اپنے سکوٹر سے توازن کھو بیٹھے اور درخت سے ٹکرا کر موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔

برونکس کے جج گائے مچل نے سزا سناتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ دیگر پولیس افسران کے لیے ایک سبق ہوگا تاکہ وہ لاپرواہی سے گریز کریں۔ جج نے ڈوران کے اس دفاع کو مسترد کر دیا کہ وہ دوسروں کی جان بچانے کے لیے ‘فوری فیصلہ’ کر رہے تھے۔ جج کا کہنا تھا کہ پولیس کے پاس ملزم کو کسی اور دن پکڑنے کا موقع موجود تھا، لیکن افسر نے غصے میں آکر غیر ضروری قدم اٹھایا۔

سارجنٹ بینولنٹ ایسوسی ایشن (SBA) نے اس فیصلے کو پولیسنگ کی تاریخ کا “تاریک ترین دن” قرار دیا ہے۔ یونین کے صدر ونسنٹ ویللونگ کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے ملک بھر کے پولیس افسران میں خوف پیدا ہوگا، کیونکہ انہیں ڈیوٹی کے دوران کیے گئے فوری فیصلوں پر مجرم قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ سزا ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب نیویارک کے میئر زوہران ممدانی کے بجٹ کٹوتیوں کے منصوبوں کے باعث پولیس فورس میں پہلے ہی بے چینی پائی جاتی ہے۔ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس طرح کے عدالتی فیصلوں کے بعد پولیس افسران کی بڑی تعداد ریٹائرمنٹ لے سکتی ہے، جس سے شہر کے حفاظتی انتظامات متاثر ہوں گے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *