White House Defends Tough Immigration Crackdown Amid Growing Criticism

اسٹیفن ملر نے واضح کیا ہے کہ اگر متعلقہ محکموں نے رفتار تیز نہ کی تو وہ خود اس عمل کی براہ راست نگرانی کریں گے۔

Editor News

واشنگٹن(ویب ڈیسک): صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دوسرے دورِ اقتدار کے پہلے سال میں اب تک 6 لاکھ 75 ہزار سے زائد غیر قانونی تارکینِ وطن کو امریکہ سے بے دخل کیا جا چکا ہے، تاہم یہ تعداد انتظامیہ کے سالانہ 10 لاکھ کے ہدف سے کم ہے۔ اس صورتحال پر ٹرمپ کے قریبی مشیر اور امیگریشن پالیسی کے معمار اسٹیفن ملر نے شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایک حالیہ اعلیٰ سطحی میٹنگ میں اسٹیفن ملر نے اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے حکام کو آڑے ہاتھوں لیا۔ انہوں نے سوال کیا کہ معاہدوں کے باوجود دیگر ممالک امریکی ڈیپورٹیز (بے دخل کیے گئے افراد) کو قبول کرنے میں سستی کیوں دکھا رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے ایک متنازع منصوبہ تیار کیا ہے جس کے تحت تارکینِ وطن کو ان کے اپنے ملک کے بجائے کسی تیسرے ملک (مثلاً افریقہ یا وسطی ایشیا کے ممالک) بھیجا جائے گا، چاہے وہ وہاں کی زبان جانتے ہوں یا نہیں۔

رپورٹس کے مطابق اب تک سب سے زیادہ تارکینِ وطن کو میکسیکو واپس بھیجا گیا ہے، جن کی تعداد تقریباً 13 ہزار ہے۔ اس کے علاوہ ایل سلواڈور، ازبکستان، پاناما اور کوسٹاریکا جیسے ممالک نے بھی چند سو افراد کو قبول کیا ہے، جبکہ روانڈا اور جنوبی سوڈان جیسے ممالک کو بھیجے گئے افراد کی تعداد 10 سے بھی کم ہے۔

سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق اس پروگرام پر لاکھوں ڈالرز خرچ کیے جا رہے ہیں، اور بعض کیسز میں ایک شخص کی بے دخلی پر 10 لاکھ ڈالر تک کے اخراجات آ رہے ہیں۔ انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ لوگوں کو ان کے وطن سے ہزاروں میل دور ناواقف ممالک میں بھیجنا غیر انسانی فعل ہے۔

وائٹ ہاؤس کی ترجمان ایبیگیل جیکسن کا کہنا ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے غیر قانونی تارکینِ وطن کی بے دخلی کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لا رہی ہے۔ اسٹیفن ملر نے واضح کیا ہے کہ اگر متعلقہ محکموں نے رفتار تیز نہ کی تو وہ خود اس عمل کی براہ راست نگرانی کریں گے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *