لاس اینجلس (ویب ڈیسک): آسکر ایوارڈ یافتہ فلم ’اوپن ہیمر‘ کی تاریخی کامیابی کے بعد، ہالی ووڈ کے نامور ہدایت کار کرسٹوفر نولان کی نئی سائنسی و تاریخی فلم ’دی اوڈیسی‘ (The Odyssey) سال 2026 کی سب سے بڑی ریلیز بننے کے لیے تیار ہے۔ ابتدائی باکس آفس اندازوں کے مطابق، یہ فلم اپنے پہلے ہی ویک اینڈ پر دنیا بھر میں 20 کروڑ ڈالر (200 ملین ڈالر) سے زائد کا زبردست بزنس کر سکتی ہے۔
تازہ ترین تخمینوں کے مطابق، یہ فلم صرف شمالی امریکہ (ڈومیسٹک مارکیٹ) میں پہلے ہی ہفتے 9 سے 10 کروڑ ڈالر بٹورنے کی صلاحیت رکھتی ہے، جبکہ عالمی سطح پر اس کا آغاز 22 کروڑ ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتا ہے۔
آئی میکس (IMAX) ٹکٹوں کی پہلے سے فروخت اور تکنیکی مہارت
شائقینِ سینما میں اس فلم کا جنون اس حد تک سوار ہے کہ 17 جولائی کو ہونے والی ریلیز سے پہلے ہی دنیا بھر کے متعدد شہروں میں ’70 ایم ایم آئی میکس’ (70mm IMAX) شوز کے ٹکٹ مکمل طور پر ایڈوانس بک ہو چکے ہیں۔ ’دی اوڈیسی‘ سینما کی تاریخ کی پہلی ایسی فلم ہے جسے مکمل طور پر آئی میکس کیمروں کی مدد سے فلمایا گیا ہے، جس کی وجہ سے ناظرین کو سکرین پر ایک بالکل انوکھا بصری تجربہ ملے گا۔
25 کروڑ ڈالر (250 ملین ڈالر) کے خطیر بجٹ سے تیار ہونے والی ’دی اوڈیسی‘ کرسٹوفر نولان کے کیریئر کی اب تک کی سب سے مہنگی اور پرعزم فلم ہے۔ قدیم یونانی شاعر ہومر کی لازوال رزمیہ داستان پر مبنی اس فلم میں میٹ ڈیمن مرکزی کردار ‘اوڈیسیئس’ نبھا رہے ہیں۔
فلم کی دیگر بڑی کاسٹ میں ہالی ووڈ کے صفِ اول کے ستارے شامل ہیں، جن میں:
ٹام ہالینڈ
زینڈایا
این ہیتھاوے
رابرٹ پیٹنسن
لوپیتا نیونگو
چارلیز تھیرون
فلمی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر فلم کو توقعات کے مطابق مثبت ریویوز ملے، تو یہ باآسانی سال 2026 کی سب سے زیادہ منافع کمانے والی فلم بن جائے گی۔





