لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

Bronx Community Outraged After ICE Detains and Injures American Citizen

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نیویارک(ویب ڈیسک): برونکس کے علاقے نارووڈ میں وفاقی امیگریشن ایجنٹوں (ICE) کی جانب سے ایک 20 سالہ امریکی شہری، جیوری کنسیپشن (Jeury Concepcion) کو غلطی سے حراست میں لینے اور تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعے نے مقامی کمیونٹی میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔

بدھ کے روز پیش آنے والے اس واقعے کی وڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کم از کم تین نقاب پوش ایجنٹوں نے جیوری کو زمین پر پٹخ دیا، جس کے نتیجے میں اس کے سر پر گہری چوٹ آئی اور ٹانکے لگوانے پڑے۔ اہل خانہ کے مطابق جیوری امریکہ میں ہی پیدا ہوا اور پلا بڑھا ہے، اور وہ اپنی سالگرہ سے قبل حجامت کروانے نکلا تھا جب اسے نشانہ بنایا گیا۔

کانگریس مین رچی ٹوریس (Ritchie Torres) نے اس واقعے پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے وفاقی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ہوم لینڈ سیکیورٹی کے انسپکٹر جنرل کو لکھے گئے خط میں ایجنٹوں کے جارحانہ رویے پر سوالات اٹھائے ہیں۔

دوسری جانب، ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) نے اپنے بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ یہ ایک ٹارگٹڈ آپریشن تھا اور فرد کی شناخت واضح نہ ہونے اور اس کے مبینہ مزاحمتی رویے کی وجہ سے اسے عارضی طور پر روکا گیا۔

مقامی رہائشیوں نے اس واقعے کے بعد امیگریشن ایجنٹوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھنے کے لیے الرٹ سسٹم اور فلائیرز لگانا شروع کر دیے ہیں۔ قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ نسلی پروفائلنگ (Racial Profiling) کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے۔