واشنگٹن: مائیکروسافٹ کے شریک بانی اور معروف انسان دوست شخصیت بل گیٹس نے امریکہ کے قانون سازوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ مصنوعی ذہانت (AI) کی ترقی اور اس کے استعمال کو ریگولیٹ کرنے کے لیے فوری طور پر قانونی فریم ورک تیار کریں۔
انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو بغیر کسی ضوابط اور نگرانی کے آزاد چھوڑ دیا گیا تو یہ غلط ہاتھوں میں جا کر ایک ارب (1 Billion) انسانوں کی موت کا سبب بن سکتی ہے۔
این بی سی (NBC) کے پروگرام ‘میٹ دی پریس’ (Meet the Press) میں اینکر کرسٹن ویلکر کو انٹرویو دیتے ہوئے بل گیٹس نے کہا کہ “صنعتی سطح پر نجی کمپنیوں کی خود سے کی جانے والی نگرانی (Self-regulation) اب کافی نہیں ہے۔ سیاست دانوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس بحث میں شامل ہونا ہوگا کہ سیکیورٹی تدابیر اور نگرانی کا فریم ورک کیسا ہونا چاہیے۔”
بل گیٹس نے کہا کہ تاریخ میں کبھی بھی کوئی ایسا ہتھیار سامنے نہیں آیا جو برے ارادے رکھنے والے افراد اور جدید ترین اے آئی (AI) ٹولز کے مجموعے جتنا طاقتور ہو۔
گیٹس سے قبل ٹیکنالوجی کی دنیا کے دیگر بڑے ناموں بشمول ایلن مسک اور سام آلٹمین نے بھی اے آئی کی بے لگام ترقی کو انسانیت کی بقا اور بائیولوجیکل ہتھیاروں کی تیاری کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔
دوسری جانب مائیکروسافٹ کو اپنے اے آئی ٹولز کے استعمال پر تنقید کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق مائیکروسافٹ کے ایژور (Azure) اے آئی ٹولز کو اسرائیلی فوج کی جانب سے غزہ میں کارروائیوں اور امریکی ہوم لینڈ سیکیورٹی کی جانب سے تارکینِ وطن کی گرفتاریوں کے لیے استعمال کیے جانے پر احتجاج جاری ہے۔
بل گیٹس کا یہ انٹرویو اور ان کا حالیہ مضمون ان کے جیفری ایپسٹین (Jeffrey Epstein) تنازع سے متعلق گیٹس فاؤنڈیشن کی جائزہ رپورٹ کے بعد پہلی بڑی عوامی آمد ہے۔ فاؤنڈیشن کی جائزہ رپورٹ کے مطابق بل گیٹس اور دیگر عہدیداروں نے 2011 سے 2014 کے درمیان ایپسٹین سے ملاقاتیں کی تھیں، جس پر گیٹس نے شدید افسوس کا اظہار کیا ہے۔
انٹرویو کے اختتام پر جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ذاتی زندگی میں اے آئی کا استعمال کرتے ہیں، تو انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ “میں اپنے ذاتی تعلقات، دوستوں اور خاندان کے معاملے میں اے آئی سے مشورے نہیں لیتا، کیونکہ اے آئی جانتی ہے کہ میں ایک سنجیدہ انسان ہوں۔”





