واشنگٹن: ٹیک جائنٹ ایپل (Apple) نے امریکی سپریم کورٹ سے رجوع کر کے اس نچلی عدالت کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست کی ہے، جس میں کمپنی کو اپنے ‘ایپ اسٹور’ سے باہر ہونے والی خریداریوں پر فیس وصول کرنے کے معاملے میں عدالت کی توہین (Civil Contempt) کا مرتکب قرار دیا گیا تھا۔
ایپل کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر یہ پیٹیشن مشہور ویڈیو گیم “فورٹناائٹ” (Fortnite) بنانے والی کمپنی ‘ایپک گیمز’ (Epic Games) کے ساتھ جاری برسوں پرانی قانونی جنگ کا حصہ ہے۔ ایپک گیمز نے 2020 میں ایپل کے خلاف مقدمہ دائر کیا تھا، جس کا مقصد آئی او ایس (iOS) آپریٹنگ سسٹم میں ایپل کی ادائیگیوں پر اجارہ داری کو ختم کرنا اور صارفین تک ایپس پہنچانے کی پابندیوں کو نرم کرنا تھا۔
عدالت نے 2021 میں ایپک گیمز کے مقدمے کو زیادہ تر تو خارج کر دیا تھا، لیکن ایک حکمِ امتناع (Injunction) جاری کیا تھا جس کے تحت ایپل کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ ایپ ڈویلپرز کو اپنی ایپس میں ایسے لنکس شامل کرنے کی اجازت دے جو صارفین کو ایپل کے علاوہ دیگر ادائیگیوں کے طریقوں (Non-Apple Payment Methods) کی طرف لے جائیں۔
ایپل نے ان لنکس کی اجازت تو دے دی، لیکن ساتھ ہی نئی سخت شرائط بھی عائد کر دیں۔ ان شرائط کے تحت، اگر کوئی صارف لنک پر کلک کرنے کے 7 دنوں کے اندر ایپ اسٹور سے باہر کسی دوسرے سسٹم کے ذریعے خریداری کرتا ہے، تو ایپل ڈویلپرز سے 27 فیصد کمیشن وصول کرے گا۔
ایپک گیمز نے موقف اختیار کیا کہ یہ 27 فیصد کمیشن عدالت کے پہلے حکم کی صریح خلاف ورزی ہے۔ عدالت نے 2025 میں ایپک گیمز کے حق میں فیصلہ دیتے ہوئے ایپل کو عدالتی حکم کی خلاف ورزی پر توہینِ عدالت کا ذمہ دار ٹھہرایا۔
ایپل نے ججز سے دو اہم قانونی نکات پر غور کرنے کی استدعا کی ہےکمپنی کا کہنا ہے کہ یہ حکمِ امتناع لاکھوں ڈویلپرز پر لاگو نہیں ہونا چاہیے کیونکہ اس کیس میں صرف ایپک گیمز ہی واحد مدعی (Plaintiff) ہے، اور یہ کوئی کلاس ایکشن (Class Action) مقدمہ نہیں تھا۔
ایپل کا یہ بھی موقف ہے کہ اسے کسی عدالتی حکم کی “روح” کی مبینہ خلاف ورزی پر توہینِ عدالت کا مرتکب نہیں ٹھہرایا جا سکتا، جبکہ اس حکم میں اس مخصوص طرزِ عمل کو واضح طور پر ممنوع قرار نہیں دیا گیا تھا۔
ایپل کسی بھی غلط کام کی تردید کرتا ہے اور اس کا دعویٰ ہے کہ وہ عدالتی احکامات پر مکمل عملدرآمد کر رہا ہے۔ دوسری جانب، ایپک گیمز نے اپنے بیان میں ایپل کے اس اقدام کو ایک آخری ہربہ قرار دیا ہے تاکہ کیس کے حتمی فیصلے کو لٹکایا جا سکے اور صارفین کے لیے ادائیگیوں کے میدان میں مقابلے کی فضاء کو روکا جا سکے۔
یاد رہے کہ دسمبر میں نائنتھ یو ایس سرکٹ کورٹ آف اپیلز نے توہینِ عدالت کے فیصلے کو برقرار رکھا تھا، تاہم ایپل کو یہ موقع دیا تھا کہ وہ ٹرائل کورٹ میں ڈیجیٹل اشیاء پر وصول کیے جانے والے کمیشن کی شرح کے حوالے سے نئے دلائل پیش کر سکے۔ امریکی سپریم کورٹ نے اس سے قبل مئی میں ایپل کی اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا جس میں نچلی عدالت کی کارروائی کو اپیل کا فیصلہ آنے تک روکنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
