نیروبی (ویب ڈیسک): اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ جنگ کا دوبارہ آغاز پوری دنیا کے لیے “تباہ کن نتائج” کا حامل ہوگا۔
کینیا کے دارالحکومت نیروبی میں ‘افریقہ فارورڈ سمٹ’ سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے مطالبہ کیا کہ آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کو بغیر کسی پابندی کے بین الاقوامی تجارت کے لیے مکمل طور پر کھلا رکھا جائے۔
انتونیو گوتیرس نے واضح کیا کہ یہ صرف ایک علاقائی مسئلہ نہیں ہے، کیونکہ افریقہ کی تیل اور کھاد کی کل درآمدات کا تقریباً 13 فیصد اسی بحری راستے سے گزرتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ توانائی اور کھاد کی قیمتوں کو جنگ سے پہلے کی سطح پر لانے کا واحد راستہ یہی ہے کہ اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ کو کھلا رکھا جائے۔
سیکرٹری جنرل نے خاص طور پر کھاد کی قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا، انہوں نے بتایا کہ نائٹروجن پر مبنی کھاد ‘یوریا’ کی قیمت میں ایک ماہ کے دوران 35 فیصد سے زائد اضافہ ہو چکا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر افریقی ممالک کو بروقت کھاد نہ ملی تو اگلے سال دنیا کو خوراک کے شدید بحران (Food Security Problem) کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔





