لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

Amin Abdullah Remembered Worldwide as “Protector of Children” After Mosque Tragedy

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

سان ڈیاگو (ویب ڈیسک): امریکی ریاست کیلیفورنیا کے شہر سان ڈیاگو میں واقع اسلامک سینٹر پر ہونے والے مہلک حملے میں اپنی جان کا نذرانہ دے کر درجنوں نمازیوں اور بچوں کی جانیں بچانے والے 52 سالہ سیکیورٹی گارڈ امین عبد اللہ کو دنیا بھر میں “ہیرو” اور “شہید” قرار دے کر خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق، امین عبد اللہ مسجد کے داخلی حصے پر سیکیورٹی کے فرائض انجام دے رہے تھے جب دو نوجوان حملہ آوروں نے اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ عینی شاہدین اور پولیس نے بتایا کہ امین عبد اللہ نے اپنی جان کی پرواہ کیے بغیر نہ صرف حملہ آوروں کو روکنے کی کوشش کی بلکہ اپنی بندوق نکالنے کے بجائے پہلے وائرلیس ریڈیو کے ذریعے مسجد اور اسکول کے عملے کو خطرے کا پیغام پہنچایا۔

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق، امین عبد اللہ کی بروقت وارننگ پر عمل کرتے ہوئے اساتذہ نے فوری طور پر کلاس رومز لاک کر دیے، جس کے نتیجے میں وہاں موجود تقریباً 200 معصوم بچے حملے سے مکمل طور پر محفوظ رہے۔ پولیس چیف نے بھی اعتراف کیا کہ اگر امین عبد اللہ یہ بہادرانہ قدم نہ اٹھاتے تو جانی نقصان اس سے کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔

اہلِ خانہ کے لیے ریکارڈ فنڈ ریزنگ:
8 بچوں کے شفیق والد امین عبد اللہ گزشتہ ایک دہائی سے زائد عرصے سے مسجد سے وابستہ تھے۔ ان کی شہادت کے بعد مسجد انتظامیہ اور شہریوں کی جانب سے ایک نامور اسلامی کراؤڈ فنڈنگ پلیٹ فارم پر شروع کی گئی فنڈ ریزنگ مہم میں چند ہی گھنٹوں کے اندر 14 لاکھ ڈالر (تقریباً 1.4 ملین ڈالر) جمع ہو گئے۔ فنڈ ریزنگ پیج پر لکھا گیا:
“امین عبد اللہ صرف ایک گارڈ نہیں تھے بلکہ مسجد میں آنے والے ہر شخص کے لیے وہ پہلی مسکراتی ہوئی شخصیت اور خطرے کے وقت آخری دفاعی دیوار ثابت ہوئے۔”

معروف اسلامی اسکالر عثمان ابن فاروق نے بتایا کہ امین عبد اللہ معصوم لوگوں کا دفاع کرنا چاہتے تھے، اسی لیے انہوں نے سیکیورٹی کا شعبہ اختیار کیا تھا۔ ان کے قریبی دوستوں نے سی این این کو بتایا کہ وہ انتہائی نرم دل، مضبوط ایمان کے مالک اور کمیونٹی، خصوصاً بزرگوں اور نئے مسلمانوں میں بے حد مقبول تھے۔

سوشل میڈیا پر ریڈٹ (Reddit)، ایکس (X) اور دیگر پلیٹ فارمز پر ہزاروں افراد نے امین عبد اللہ کو ’’بچوں کا محافظ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنی زندگی پر دوسروں کی حفاظت کو ترجیح دے کر عظمت کی اعلیٰ ترین مثال قائم کی ہے۔ واضح رہے کہ اس لرزہ خیز حملے میں امین عبد اللہ سمیت 3 افراد شہید ہوئے، جبکہ دونوں حملہ آوروں نے بعد میں خودکشی کر لی تھی۔