گوگل کی بانی کمپنی الفابیٹ (Alphabet) نے آرٹیفیشل انٹیلیجنس (AI) کے میدان میں اپنی بالادستی قائم کرنے اور اپنے انفراسٹرکچر کو وسعت دینے کے لیے اسٹاکس کی فروخت کے ذریعے 80 ارب ڈالر تک فنڈز اکٹھے کرنے کا بڑا اعلان کیا ہے۔
دنیا بھر کی بڑی ٹیک کمپنیاں اس وقت اے آئی ریس میں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔
کمپنی کے جاری کردہ پلان کے مطابق، الفابیٹ 30 ارب ڈالر کے پبلک اسٹاک شیئرز مارکیٹ میں لائے گی، جبکہ 10 ارب ڈالر کے شیئرز مشہور امریکی سرمایہ کار وارن بفٹ کی کمپنی ‘برکشائر ہیتھ وے’ (Berkshire Hathaway) کو پرائیویٹ طور پر فروخت کیے جائیں گے۔ اس کے علاوہ 40 ارب ڈالر کا شیئر سیل پروگرام سال 2026 کی اگلی سہ ماہی (Quarter) میں شروع کیا جائے گا۔
الفابیٹ اس خطیر رقم کا بڑا حصہ اپنی اے آئی کمپیوٹنگ کی صلاحیت بڑھانے اور دنیا بھر میں ڈیٹا سینٹرز کا نیٹ ورک وسیع کرنے پر خرچ کرے گی کیونکہ مارکیٹ میں اے آئی سروسز کی مانگ میں ریکارڈ اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ کمپنی نے سال 2026 کے لیے اپنے مجموعی ترقیاتی اخراجات (Capital Expenditures) کا تخمینہ 180 ارب سے 190 ارب ڈالر کے درمیان لگایا ہے۔
یہ رجحان صرف گوگل تک محدود نہیں ہے، بلکہ ایمازون، مائیکروسافٹ، الفابیٹ اور میٹا (فیس بک) مل کر اس سال اے آئی کلاؤڈ کمپیوٹنگ، ڈیٹا سینٹرز اور ایڈوانسڈ چپس پر مجموعی طور پر تقریباً 700 ارب ڈالر خرچ کرنے جا رہے ہیں۔ وارن بفٹ کی برکشائر ہیتھ وے کی جانب سے 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کو الفابیٹ کی طویل مدتی اے آئی حکمت عملی پر ایک بہت بڑا اعتماد قرار دیا جا رہا ہے۔
الفابیٹ نے اپنے حالیہ مالیاتی نتائج بھی جاری کیے ہیں، جس کے مطابق کمپنی نے رواں سال کی پہلی سہ ماہی میں 110 ارب ڈالر کی ریکارڈ آمدنی پر 62.6 ارب ڈالر کا خالص منافع کمایا ہے، جو کہ ماہرین کی توقعات سے کہیں زیادہ ہے۔ گزشتہ چھ ماہ کے دوران گوگل (الفابیٹ) کے شیئرز کی قیمتوں میں 18 فیصد اضافہ دیکھا گیا ہے۔
