نیویارک: نیویارک سٹی کونسل میں ایک ایسا بل زیرِ بحث ہے جو شہر کے نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی ذہنی صحت کی خرابیوں کو روکنے کے لیے سوشل میڈیا کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کر سکتا ہے۔ اس بل کے تحت 18 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا کا استعمال روزانہ صرف ایک گھنٹہ تک محدود کر دیا جائے گا۔
بل کے اہم نکات:
نابالغوں کے لیے سوشل میڈیا تک رسائی دن میں صرف 60 منٹ ہوگی۔
الگورتھم پر پابندی: بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو ایسے ‘ایڈیکٹیو فیڈز’ (نشہ آور مواد) اور اشتہارات دکھانے سے روکا جائے گا جو بچوں کو سوشل میڈیا کا عادی بناتے ہیں۔
والدین کی رائے: سروے کے مطابق 78 فیصد والدین حکومت کی جانب سے ایسی مداخلت کے حامی ہیں۔
2024 کی ایک رپورٹ کے مطابق، سوشل میڈیا استعمال کرنے والے 27 فیصد نوجوان ‘بے چینی’ (Anxiety) کا شکار پائے گئے، جبکہ اسے استعمال نہ کرنے والوں میں یہ شرح صرف 9 سے 12 فیصد ہے۔ اسی طرح سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں میں ڈپریشن کی شرح 14 فیصد ہے، جبکہ غیر صارفین میں یہ صرف 4 فیصد ہے۔
کونسل ممبران کا کہنا ہے کہ یہ بل بچوں کی ذہنی صحت کو منافع پر ترجیح دینے کے لیے ضروری ہے۔ تاہم، ٹیکنالوجی کمپنیوں اور آزادیِ اظہار کے علمبرداروں کی جانب سے اس بل کی سخت مخالفت کی توقع کی جا رہی ہے، جن کا کہنا ہے کہ یہ آئینی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔
