لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

UN Secretary-General Calls for Immediate Ceasefire During Lebanon Visit

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

بیروت (ویب ڈیسک): اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے لبنان کے عوام کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے ملک کا دورہ کیا اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ زبانی ہمدردی کے بجائے عملی اقدامات کرے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ خطے میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی لبنان میں انسانی تباہی کا باعث بن رہی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ کے جاری بحران میں اب تک سینکڑوں عام شہری، جن میں بچوں کی بڑی تعداد شامل ہے، اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔

لاکھوں افراد کے گھر تباہ ہو چکے ہیں اور وہ در بدر ہونے پر مجبور ہیں۔ اب تک 90,000 سے زائد افراد، جن میں زیادہ تر شامی مہاجرین اور لبنانی شہری شامل ہیں، سرحد عبور کر کے شام جا چکے ہیں۔

خوراک، پانی، صحت اور تعلیم جیسی بنیادی خدمات تک رسائی خطرناک حد تک منقطع ہو چکی ہے اور انخلا کے احکامات ملک کے بڑے حصے تک پھیل چکے ہیں۔

سیکرٹری جنرل نے زور دیا کہ دونوں فریقین فوری طور پر جنگ بندی قبول کریں تاکہ مذاکرات کے لیے سازگار حالات پیدا ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ لبنان کی علاقائی سالمیت کا احترام ہونا چاہیے اور ریاست کو طاقت کے استعمال پر مکمل اختیار حاصل ہونا چاہیے۔

“لبنان نے سالہا سال سے تنازعات سے بھاگنے والوں کے لیے اپنے دروازے کھلے رکھے اور دنیا کو مہمان نوازی کا حقیقی مطلب سکھایا۔ اب وقت ہے کہ دنیا اس مشکل گھڑی میں لبنان کا ساتھ دے۔” — سیکرٹری جنرل، اقوامِ متحدہ

اقوامِ متحدہ نے لبنان کے لیے ایک ہنگامی ‘فلیش اپیل’ (Flash Appeal) جاری کی ہے جس کا مقصد اگلے تین ماہ تک جان بچانے والی امداد کو برقرار رکھنا ہے۔

یو این ایجنسیز اور پارٹنرز مقامی حکام کے ساتھ مل کر پکا ہوا کھانا، پینے کا صاف پانی، ادویات اور دیگر ضروری اشیاء فراہم کر رہے ہیں۔

امدادی کاموں کی کامیابی کا دارومدار فوری فنڈنگ اور امدادی کارکنوں کی متاثرہ علاقوں تک محفوظ رسائی پر ہے۔

سیکرٹری جنرل نے لبنانی عوام کی ہمت اور اسکولوں و طبی مراکز کی خدمات کو سراہا جو شدید دباؤ کے باوجود بے گھر خاندانوں کی مدد کر رہے ہیں۔