تہران/تل ابیب:مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی انتہائی سنگین رخ اختیار کر گئی ہے جب امریکہ اور اسرائیل نے ہفتے کی صبح ایران کے دارالحکومت تہران سمیت ملک کے مختلف حصوں پر بڑا میزائل حملہ کر دیا۔
تہران میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور کئی مقامات پر دھوئیں کے بادل اٹھتے ہوئے دیکھے گئے۔
ایرانی خبر رساں ایجنسی ‘فارس’ کے مطابق، تہران کی معروف ‘یونیورسٹی اسٹریٹ’ اور ‘جمہوری’ کے علاقوں میں متعدد میزائل گرے۔ اس کے علاوہ تہران کے شمالی علاقے سید خندان میں بھی دھماکوں کی اطلاع ملی ہے۔
الجزیرہ کے مطابق حملے کے بعد تہران میں موبائل فون سروس اور مواصلاتی نظام درہم برہم ہو گیا ہے اور شہریوں کو رابطوں میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اسرائیل کے وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے حملے کی تصدیق کرتے ہوئے اسے ایک “پیشگی کارروائی” (Pre-emptive strike) قرار دیا ہے تاکہ اسرائیل کے خلاف لاحق خطرات کو ختم کیا جا سکے۔
دوسری جانب، ایک امریکی عہدیدار نے الجزیرہ کو بتایا کہ یہ اسرائیل اور امریکہ کا ایک مشترکہ فوجی آپریشن ہے، جس کا مقصد ایران پر اس کے ایٹمی پروگرام کے حوالے سے دباؤ بڑھانا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، حملہ ایرانی رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کے دفتر کے قریب بھی کیا گیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ آیت اللہ خامنہ ای تہران میں موجود نہیں ہیں اور انہیں حملے سے قبل ہی کسی محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا تھا۔
اسرائیل میں ہنگامی حالت نافذ کر دی گئی ہے اور سائرن بجا کر شہریوں کو الرٹ کر دیا گیا ہے۔ اسرائیل نے اپنی فضائی حدود سویلین پروازوں کے لیے بند کر دی ہیں۔
عراق اور قطر: عراق نے بھی اپنی فضائی حدود بند کر دی ہیں، جبکہ قطر میں قائم امریکی سفارت خانے نے اپنے عملے اور شہریوں کو محفوظ مقامات پر پناہ لینے (Shelter-in-place) کی ہدایت کی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان جوہری مذاکرات جاری تھے۔ جارج ٹاؤن یونیورسٹی کے پروفیسر مہران کامروا کے مطابق، اس حملے کا ایک مقصد مذاکرات کے عمل کو سبوتاژ کرنا بھی ہو سکتا ہے۔
