مین ہٹن(ویب ڈیسک): مین ہٹن ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس نے واشنگٹن اسکوائر پارک میں پولیس اہلکاروں پر برف کے گولے برسانے کے الزام میں گرفتار 27 سالہ نوجوان، گسمانے کولیبالی (Gusmane Coulibaly) کے خلاف ‘پولیس افسر پر حملے’ (Assault) کے الزامات واپس لے لیے ہیں۔
واشنگٹن اسکوائر پارک میں برف باری کے دوران ایک ہنگامہ آرائی ہوئی تھی جسے میئر زہران ممدانی نے “بچوں کا کھیل” قرار دیا تھا، جبکہ پولیس حکام نے اسے وردی پر حملہ قرار دیا۔ الزام ہے کہ کولیبالی اور اس کے ساتھیوں نے برف کے گولوں میں برف کے ٹکڑے اور پتھر بھر کر پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا۔
جمعرات کو ہونے والی سماعت کے دوران استغاثہ نے سنگین الزامات کو کم کر دیاہے۔
‘پولیس پر حملے’ کے الزام کو ختم کر کے اسے محض ‘ہراساں کرنے’ (Harassment) اور ‘سرکاری کام میں مداخلت’ (Obstruction) میں تبدیل کر دیا گیا۔
ایک پولیس افسر “جانسن” کے چہرے اور آنکھ کے نیچے سوزش اور درد کی شکایت تھی، تاہم اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ اٹارنی نے عدالت کو بتایا کہ یہ ثابت کرنا مشکل ہے کہ یہ زخم براہِ راست اسی ملزم کے وار سے لگا۔
جج مشیل ویبر نے ملزم کی نگرانی میں رہائی (Supervised Release) کا حکم جاری کر دیا ہے۔
پولیس بینوولنٹ ایسوسی ایشن (PBA) کے صدر پیٹرک ہینڈری نے اس فیصلے پر سخت غصے کا اظہار کیا۔ انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا:”یہ کوئی معصومانہ کھیل نہیں تھا بلکہ وردی پہننے والے افسران پر حملہ تھا۔ سینکڑوں افراد نے پولیس کو گھیرے میں لے کر ان پر پتھروں سے بھرے برف کے گولے پھینکے۔ یہ سمجھ سے باہر ہے کہ حملے کے واضح نشانات کے باوجود الزامات کیوں کم کیے گئے۔”
ملزم کے وکیل جارج وومولاکس نے الزام لگایا کہ نیویارک پولیس (NYPD) میئر زہران ممدانی کے خلاف اپنی تلخی کا بدلہ اس نوجوان سے لے رہی ہے۔ وکیل نے عدالت میں یہ بھی دعویٰ کیا کہ ان کا موکل 22 سال کا ہے، جبکہ سرکاری ریکارڈ کے مطابق اس کی عمر 27 سال ہے۔
