لکھنؤ(ویب ڈیسک): سوشل میڈیا پر لکھنؤ یونیورسٹی کی ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے جس نے فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی نئی مثال قائم کر دی ہے۔ تاریخی ‘لال بارادری’ میں واقع مسجد کو انتظامیہ کی جانب سے سیل کیے جانے کے بعد، ہندو طلبا نے اپنے مسلمان ساتھیوں کی عبادت کے دوران ڈھال بن کر ان کی حفاظت کی۔
رپورٹ کے مطابق، یونیورسٹی انتظامیہ نے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے تاریخی لال بارادری عمارت اور اس میں موجود مسجد کو ویلڈنگ کر کے بند کر دیا تھا۔ اس اقدام کے خلاف سماجوادی چھاترا سبھا، NSUI اور AISA سے وابستہ ہندو طلبا نے شدید احتجاج کیا۔
جب مسلم طلبا نے عمارت کے باہر نماز ادا کی، تو ان کے ہندو ساتھیوں نے چاروں طرف انسانی زنجیر بنائی تاکہ وہ پرامن طریقے سے عبادت کر سکیں۔
طلبا نے عمارت کے باہر ہی ایک ساتھ افطار کر کے بھائی چارے کا پیغام دیا۔
دوسری جانب، یونیورسٹی کے ترجمان پروفیسر مکول سریواستو کا کہنا ہے کہ 1814 میں تعمیر شدہ یہ تاریخی عمارت انتہائی خستہ حال ہو چکی ہے۔ جانی نقصان کے خدشے کے پیش نظر اسے سیل کیا گیا ہے، کیونکہ حال ہی میں عمارت کی ایک دیوار گر گئی تھی۔
لال بارادری نوابی دور کی سرخ پتھر سے بنی واحد عمارت ہے، جسے نواب غازی الدین حیدر شاہ نے شروع کیا تھا۔ طلبا کا کہنا ہے کہ یہاں قیامِ یونیورسٹی سے ہی نماز ادا کی جا رہی ہے، لہٰذا اسے اچانک بند کرنا مذہبی امتیاز کے زمرے میں آتا ہے۔
