“Interest Has Not Faded”: Danish PM Says Trump Still Focused on Greenlan

گرین لینڈ، جو کہ ڈنمارک کا ایک خود مختار علاقہ ہے، اپنی معدنی دولت اور جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے طویل عرصے سے امریکی صدر کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔

Editor News

میونخ (اے ایف پی): ڈنمارک کی وزیر اعظم میٹے فریڈرکسن نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ گرین لینڈ کو حاصل کرنے کے اپنے ارادے سے پیچھے نہیں ہٹے ہیں۔

میونخ سیکیورٹی کانفرنس کے دوران ایک پینل ڈسکشن میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگرچہ صدر ٹرمپ نے طاقت کے زور پر جزیرے پر قبضے کی دھمکیاں واپس لے لی ہیں، لیکن “بدقسمتی سے میرا خیال ہے کہ ان کی خواہش اب بھی وہی ہے۔”

گرین لینڈ، جو کہ ڈنمارک کا ایک خود مختار علاقہ ہے، اپنی معدنی دولت اور جغرافیائی اہمیت کی وجہ سے طویل عرصے سے امریکی صدر کی توجہ کا مرکز رہا ہے۔ گزشتہ ماہ نیٹو کے سیکرٹری جنرل مارک روٹے کے ساتھ ایک “فریم ورک” معاہدے کے بعد ٹرمپ نے بظاہر اپنے سخت موقف میں نرمی دکھائی تھی، لیکن ڈنمارک کی قیادت کا کہنا ہے کہ “ابھی سب کچھ ختم نہیں ہوا۔”

صدر ٹرمپ کا اصرار ہے کہ معدنیات سے مالا مال گرین لینڈ امریکہ اور نیٹو کی سیکیورٹی کے لیے انتہائی اہم ہے، خاص طور پر آرکٹک کے علاقے میں روس اور چین کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکنے کے لیے اس جزیرے کی اسٹریٹجک اہمیت بڑھ گئی ہے۔

ڈنمارک اور گرین لینڈ کی قیادت نے جزیرے کے عوام پر امریکی دباؤ کو “ناقابلِ قبول” قرار دیا ہے۔ وزیر اعظم فریڈرکسن نے واضح کیا کہ اگرچہ امریکہ کے ساتھ سیکیورٹی خدشات پر بات چیت کے لیے ایک ورکنگ گروپ تشکیل دے دیا گیا ہے،

لیکن کچھ ایسی ‘ریڈ لائنز’ ہیں جنہیں کبھی پار نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو سے اپنی حالیہ ملاقات کو “تعمیری” قرار دیا، تاہم اپنے ملک کی خودمختاری پر سمجھوتہ نہ کرنے کا اعادہ بھی کیا۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *