نیویارک (ویب ڈیسک): امریکہ کے شہر نیویارک میں نرسوں اور ہسپتال انتظامیہ کے درمیان طویل تنازع کے بعد ایک بڑا بریک تھرو سامنے آیا ہے۔ دو بڑے ہسپتال سسٹمز کے 10 ہزار سے زائد نرسوں نے نئے لیبر کنٹریکٹ کی منظوری دے دی ہے، جس کے بعد ہفتے کی صبح سے ان کی کام پر واپسی شروع ہوگئی ہے۔
تقریباً ایک ماہ سے جاری اس تاریخی ہڑتال کا خاتمہ اس وقت ہوا جب ‘ماؤنٹ سینائی’ اور ‘مونٹی فیور’ میڈیکل سینٹر کی نرسوں نے بھاری اکثریت سے نئے تین سالہ معاہدے کے حق میں ووٹ دیا۔ ہفتے کی صبح 7 بجے کی شفٹ کے لیے جب نرسیں ماؤنٹ سینائی ہسپتال پہنچیں، تو ان کے ساتھیوں اور حامیوں نے تالیوں اور نعروں کے ساتھ ان کا استقبال کیا۔
نرسوں کا موقف تھا کہ عملے کی کمی (Understaffing) کی وجہ سے مریضوں کی دیکھ بھال متاثر ہو رہی ہے اور طبی عملہ ذہنی دباؤ کا شکار ہے۔ نئے معاہدے میں
تین سالہ مدت کے دوران مجموعی طور پر 12 فیصد سے زائد اضافہ۔
نرسوں کی نئی اسامیوں کی تخلیق اور عملے کی تعداد کے حوالے سے سخت معیارات کا نفاذ۔
تشدد کے خلاف بہتر سکیورٹی، وزیٹر اسکریننگ اور حفاظتی آلات کی فراہمی۔
ہیلتھ انشورنس کا تحفظ اور مصنوعی ذہانت (AI) کے استعمال سے متعلق نئی پالیسیاں۔
ماؤنٹ سینائی ہیلتھ سسٹم کے سی ای او برینڈن جی کار نے معاہدے کی توثیق پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “ہمارا مقصد ہسپتال کے آپریشنز کو جلد از جلد معمول پر لانا ہے۔ مریضوں کی دیکھ بھال ہماری اولین ترجیح ہے۔” انہوں نے واضح کیا کہ تمام نرسوں کی واپسی کا عمل بتدریج مکمل ہوگا۔
