بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیرِاعظم خالدہ ضیا انتقال کر گئیں

تاہم نومبر کے اواخر میں انہیں دوبارہ اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کی کوششوں کے باوجود ان کی صحت مزید بگڑتی چلی گئی۔

Editor News

ڈھاکا(ویب ڈیسک): بنگلہ دیش کی پہلی خاتون وزیرِاعظم اور اپوزیشن جماعت بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کی سربراہ بیگم خالدہ ضیا طویل علالت کے بعد انتقال کر گئیں۔ بی این پی نے منگل کے روز ان کے انتقال کی تصدیق کی۔

80 سالہ خالدہ ضیا جگر کے شدید مرض (سروسس)، گٹھیا، ذیابیطس، سینے اور دل کی بیماریوں میں مبتلا تھیں، ڈاکٹروں کے مطابق ان کی حالت طویل عرصے سے تشویشناک تھی۔

طویل علالت اور قید کے باوجود خالدہ ضیا نے نومبر میں اعلان کیا تھا کہ وہ فروری 2026 میں ہونے والے عام انتخابات میں مہم چلائیں گی۔ یہ انتخابات گزشتہ سال شیخ حسینہ کی حکومت کے خاتمے کے بعد پہلی مرتبہ ہونے تھے، اور بی این پی کو ان میں مضبوط امیدوار تصور کیا جا رہا تھا۔

تاہم نومبر کے اواخر میں انہیں دوبارہ اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کی کوششوں کے باوجود ان کی صحت مزید بگڑتی چلی گئی۔

خالدہ ضیا کو 2018 میں شیخ حسینہ کے دورِ حکومت میں کرپشن کے مقدمے میں جیل بھیج دیا گیا تھا، جبکہ انہیں علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔ گزشتہ سال شیخ حسینہ کے اقتدار سے ہٹنے کے بعد انہیں رہا کیا گیا تھا۔

اس ماہ کے اوائل میں انہیں خصوصی ایئر ایمبولینس کے ذریعے لندن منتقل کرنے کا منصوبہ تھا، تاہم ان کی حالت سفر کے قابل نہیں تھی۔

بنگلہ دیش حکومت نے خالدہ ضیا کے انتقال پر تین روزہ سرکاری سوگ کا اعلان کیا ہے، جبکہ ان کی نمازِ جنازہ بدھ کے روز ادا کی جائے گی۔

قوم سے خطاب میں محمد یونس نے عوام سے پُرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا،
“میں سب سے گزارش کرتا ہوں کہ سوگ اور نمازِ جنازہ کے دوران نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں۔ یہ جذباتی وقت ہے، مگر صبر اور باہمی تعاون کی ضرورت ہے۔”

قانون کے عبوری وزیر آصف نذرل نے بتایا کہ نمازِ جنازہ پارلیمنٹ کے سامنے ظہر کی نماز کے بعد ادا کی جائے گی، جس کے بعد خالدہ ضیا کو ان کے مرحوم شوہر اور سابق صدر ضیاء الرحمٰن کے پہلو میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *