نوجوان رہنماشریف عثمان ہادی کےقتل کی تحقیقات کیلئے اقوامِ متحدہ سےرابطہ

وہ شدید زخمی ہونے کے بعد سنگاپور کے ہسپتال میں انتقال کر گئے تھے ۔

Editor News

ڈھاکہ (اے ایف پی): بنگلہ دیش کی عبوری حکومت نے 2024 کی احتجاجی تحریک کے مقبول نوجوان رہنما شریف عثمان ہادی کے قتل کی تحقیقات کے لیے اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر سے تکنیکی اور ادارہ جاتی مدد مانگ لی ہے۔

حکومتی پریس ونگ کے مطابق، جنیوا میں بنگلہ دیشی مشن نے اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق (OHCHR) کو ایک سفارتی نوٹ بھیجا ہے۔ اس میں درخواست کی گئی ہے کہ قتل کی “منصفانہ، غیر جانبدارانہ اور فوری” تحقیقات کو یقینی بنانے کے لیے تعاون فراہم کیا جائے۔

32 سالہ شریف عثمان ہادی کو گزشتہ سال دسمبر میں ڈھاکہ میں نقاب پوش حملہ آوروں نے گولی ماری تھی۔

وہ شدید زخمی ہونے کے بعد سنگاپور کے ہسپتال میں انتقال کر گئے تھے۔ ان کی موت کے بعد ملک بھر میں شدید احتجاجی لہر دوڑ گئی تھی۔

ہادی جمعرات کو ہونے والے عام انتخابات میں آزاد امیدوار کے طور پر حصہ لینے کا ارادہ رکھتے تھے۔

شریف عثمان ہادی بھارت کے سخت ناقد تصور کیے جاتے تھے، جہاں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ واجد نے پناہ لے رکھی ہے۔ ان کے حامی انہیں ایک “شہید” اور بنگلہ دیش کے بدلتے ہوئے سیاسی منظر نامے میں اینٹی اسٹیبلشمنٹ تحریک کی علامت قرار دیتے ہیں۔

نوبل انعام یافتہ محمد یونس کی سربراہی میں قائم عبوری حکومت نے عزم ظاہر کیا ہے کہ اس کیس میں شفافیت اور جوابدہی کے اعلیٰ ترین معیار برقرار رکھے جائیں گے اور ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *