لاہور(ویب ڈیسک) : لاہور کے تاریخی شاہی قلعہ میں امریکی مالی تعاون سے بحال کیے گئے تین اہم تاریخی مقامات لوہ مندر، سکھ عہد کے شاہی حمام اور اتھ درہ پویلین کا باضابطہ افتتاح کر دیا گیا۔
افتتاحی تقریب میں امریکی قونصل خانے کے پبلک افیئرز آفیسر سندیپ پال اور پنجاب کے صوبائی وزیر برائے اقلیتی امور رمیش سنگھ اروڑا نے بطور مہمانِ خصوصی شرکت کی۔

تقریباً 10 لاکھ ڈالر (ایک ملین ڈالر) کی خطیر رقم سے مکمل ہونے والا یہ منصوبہ والڈ سٹی لاہور اتھارٹی (WCLA) اور آغا خان کلچرل سروس کے اشتراک سے پایہ تکمیل کو پہنچا۔ یہ بحالی قلعہ کے اندر موجود ان سات مقامات کے تحفظ کے اقدام کا حصہ ہے جنہیں عالمی معیار کے مطابق محفوظ کیا جا رہا ہے۔
اس منصوبے کا مقصد نہ صرف قدیم ورثے کو محفوظ بنانا ہے بلکہ تاریخی مقامات کی بحالی سے سیاحت کو فروغ ملے گا جس سے مقامی معیشت مضبوط ہوگی۔

اس منصوبے میں تحفظِ ورثہ کے پیشہ ورانہ اور بین الاقوامی معیارات کو بروئے کار لایا گیا ہے۔یہ پروجیکٹ دنیا بھر میں امریکی ورثے اور تحفظِ ورثہ کی مہارت کے لیے نئے مواقع پیدا کرتا ہے۔
امریکی قونصل جنرل اسٹیٹسن سینڈرز نے اپنے ایک ریکارڈ شدہ پیغام میں نتائج پر مبنی سرمایہ کاری کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ ایسے منصوبے ورثے کی حفاظت کے ساتھ ساتھ پائیدار معاشی سرگرمیوں اور طویل مدتی شراکت داری کو بھی فروغ دیتے ہیں۔

پبلک افیئرز آفیسر سندیپ پال نے اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے کہا:”ہم امریکی ٹیکس دہندگان کے ڈالرز کے استعمال میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بناتے ہیں۔ یہ سرمایہ کاری پاکستان کی تاریخ کو محفوظ بنانے اور معاشی مواقع پیدا کرنے کے لیے ہمارا عزم ظاہر کرتی ہے۔”
واضح رہے کہ سال 2001 سے اب تک امریکہ پاکستان بھر میں ثقافتی ورثے کے تحفظ کے 35 منصوبوں میں 8.4 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد پاکستان کی بھرپور تاریخ کو محفوظ بنانا اور اسے آنے والی نسلوں کے لیے معاشی خوشحالی کا ذریعہ بنانا ہے۔
