نیویارک : صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے تحت 2025 کے ہنگامہ خیز سال کے بعد، ماہرینِ معیشت کا اندازہ ہے کہ 2026 میں امریکی معیشت سست مگر مستحکم ترقی کی جانب بڑھے گی۔ تاہم، مسلسل مہنگائی، ڈھانچہ جاتی رکاوٹیں اور پالیسیوں کے حوالے سے غیر یقینی صورتحال اس منظرنامے کو پیچیدہ بنا رہی ہے۔
رائل بینک آف کینیڈا (RBC) کے ماہرین نے 2026 کے لیے ‘اسٹیگ فلیشن لائٹ’ (Stagflation Lite) کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ ان کا اندازہ ہے کہ جی ڈی پی (GDP) کی شرح نمو 2 فیصد سے کم رہے گی جبکہ بنیادی افراطِ زر (Core Inflation) 3 فیصد سے اوپر رہے گی، خاص طور پر ہاؤسنگ اور سروسز کے شعبوں میں مہنگائی برقرار رہنے کا امکان ہے۔
کچھ تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ درج ذیل عوامل معیشت کو سہارا دے سکتے ہیں
ٹیکسوں میں کٹوتی: ٹرمپ کی ٹیکس پالیسیوں اور ‘ون بگ بیوٹی فل بل’ (One Big Beautiful Bill) سے صارفین کے پاس خرچ کرنے کے لیے زیادہ رقم بچے گی اور کاروباروں کو سرمایہ کاری کے مواقع ملیں گے۔
RBC اور ڈیلوئٹ (Deloitte) دونوں کے مطابق، AI ٹیکنالوجی، ڈیٹا سینٹرز اور سیمی کنڈکٹرز کے شعبوں میں بڑی سرمایہ کاری معاشی ترقی کا انجن ثابت ہو سکتی ہے۔
مالیاتی محرکات: کے پی ایم جی (KPMG) کی چیف اکانومسٹ ڈیان سوئونک کے مطابق، حکومتی مالیاتی محرکات سال کی پہلی سہ ماہی میں جی ڈی پی میں 0.5 فیصد یا اس سے زیادہ کا اضافہ کر سکتے ہیں۔
معیشت کو درپیش چند سنگین چیلنجز کاسامناہے
آبادی میں بڑھاپے کا رجحان اور امیگریشن (ہجرت) میں کمی کی وجہ سے لیبر مارکیٹ سکڑ رہی ہے، جو طویل مدتی ترقی کے لیے خطرہ ہے۔
دوہری رفتار کی حامل معیشت: ماہرین کے مطابق امیر طبقہ اسٹاک مارکیٹ کے فوائد سے فائدہ اٹھا رہا ہے، جبکہ کم اور متوسط آمدنی والے گھرانے بڑھتی ہوئی قیمتوں اور منجمد اجرتوں کی وجہ سے مالی دباؤ کا شکار ہیں۔
2025 میں ٹرمپ کے لگائے گئے محصولات (Tariffs) نے ترقی کو متاثر کیا تھا۔ اگر چین کے ساتھ تجارتی تناؤ کم ہوتا ہے تو بہتری آ سکتی ہے، بصورتِ دیگر مہنگائی میں مزید اضافہ ہوگا۔
اکتوبر 2025 میں چھ ہفتوں کے وفاقی حکومت کے شٹ ڈاؤن (Shutdown) نے لیبر مارکیٹ کو متاثر کیا ہے۔ گولڈ مین سیکس کے مطابق، 2026 میں بیروزگاری کی شرح 4.5 فیصد کے قریب مستحکم رہنے کی توقع ہے، لیکن بھرتیوں کی سست رفتار ایک بڑا خطرہ رہے گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ 2026 میں کسی شدید معاشی بحران یا مندی (Recession) کا امکان کم ہے، لیکن ترقی کی رفتار معمولی اور ناہموار رہے گی۔ کاروباری اداروں اور عام شہریوں کو آنے والے سال میں ٹیکس کٹوتیوں جیسے مثبت پہلوؤں اور مہنگائی جیسے منفی عوامل کے درمیان توازن قائم کرنا ہوگا۔
