ایران اور امریکہ جنگ کے دہانے پر: صدر ٹرمپ کی مذاکرات کی خواہش

صدر نے کہا کہ ایک بڑا بحری بیڑہ ایران کی طرف روانہ کیا گیا ہے، لیکن وہ امید کرتے ہیں کہ اس کے استعمال کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

Editor News

واشنگٹن/تہران/برسلز(ویب ڈیسک): مشرق وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے ہونے کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف فوجی کارروائی سے بچنے کی امید رکھتے ہیں۔ تاہم، دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی امریکی حملے کی صورت میں خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں اور بحری بیڑوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔

اپنی اہلیہ ملانیا کے بارے میں ایک دستاویزی فلم کے پریمیئر کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے ساتھ بات چیت کر رہے ہیں اور فوجی آپریشن سے بچنے کا امکان ابھی ختم نہیں ہوا۔

صدر نے کہا کہ ایک بڑا بحری بیڑہ ایران کی طرف روانہ کیا گیا ہے، لیکن وہ امید کرتے ہیں کہ اس کے استعمال کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ ایران سے بات کریں گے، تو انہوں نے جواب دیا: “میں نے پہلے بھی کی ہے اور میں اس کا منصوبہ بنا رہا ہوں۔”

ایرانی عسکری حکام نے امریکہ کو کسی بھی “غلط فہمی” سے بچنے کی تنبیہ کی ہے۔ بریگیڈیئر جنرل محمد اکرم نیا نے سرکاری ٹیلی ویژن پر کہا:”اگر امریکیوں نے کوئی غلطی کی تو یہ ویسا نہیں ہوگا جیسا ٹرمپ سوچ رہے ہیں کہ دو گھنٹے کا آپریشن کیا اور ٹویٹ کر دیا کہ کام ختم ہو گیا۔ ہمارا جواب فوری اور فیصلہ کن ہوگا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ خلیج میں موجود امریکی اڈے ایران کے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کی حد میں ہیں اور امریکی بحری بیڑے حملوں کے حوالے سے “انتہائی کمزور” ہیں۔

ایران پر دباؤ بڑھاتے ہوئے یورپی یونین نے پاسدارانِ انقلاب (IRGC) کو دہشت گرد تنظیم قرار دے دیا ہے۔ یورپی یونین کی سربراہ ارسلا وان ڈیر لیین نے کہا کہ جو حکومت اپنے ہی لوگوں کے احتجاج کو خون میں دبا دے، اسے “دہشت گرد” ہی کہا جائے گا۔ ایران نے اس فیصلے کو غیر منطقی اور امریکہ و اسرائیل کی تابعداری قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *