امیگریشن حراست میں طبی غفلت،بچی موت کےدہانےتک پہنچ گئی

سینکڑوں دیگر خاندان بھی وہاں پینے کے صاف پانی، صحت بخش خوراک اور مناسب طبی دیکھ بھال سے محروم ہیں۔

Editor News

ٹیکساس (رائٹرز): امریکی ریاست ٹیکساس کی ایک وفاقی عدالت میں دائر مقدمے کے مطابق، امریکی امیگریشن حکام کی جانب سے ہفتوں تک زیرِ حراست رکھی گئی ایک 18 ماہ کی بچی کو جان لیوا سانس کی بیماری کے باعث ہسپتال منتقل کیا گیا، لیکن واپسی پر اسے ضروری ادویات دینے سے انکار کر دیا گیا۔

مقدمے میں “امالیہ” کے نام سے پہچانی جانے والی اس بچی کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے تحت کام کرنے والے امیگریشن حکام نے اس وقت رہا کیا جب جمعہ کو اس کے والدین نے قانونی چارہ جوئی کی۔ بچی کے ساتھ ساتھ اس کے والدین کو بھی، جو زیرِ حراست تھے، رہا کر دیا گیا ہے۔

اہل خانہ کو 11 دسمبر کو امیگریشن حکام کے پاس معمول کے چیک ان کے دوران حراست میں لے کر ڈیلی (Dilley)، ٹیکساس کے ایک مرکز میں رکھا گیا تھا۔

امالیہ کو 18 سے 28 جنوری تک ہسپتال میں داخل رکھا گیا اور اسے ایک ایسے وقت میں واپس حراستی مرکز لایا گیا جب وہاں خسرہ (measles) کی وبا پھیلی ہوئی تھی۔

بچی کو COVID-19، نمونیا اور سانس کی دیگر شدید بیماریوں کی تشخیص ہوئی تھی اور اسے آکسیجن پر رکھا گیا تھا۔

خاندان کی وکیل ایلورا مکھرجی کا کہنا ہے کہ “ننھی امالیہ کو کبھی حراست میں لینا ہی نہیں چاہیے تھا، وہ ڈیلی کے مرکز میں موت کے منہ سے واپس آئی ہے۔

” انہوں نے مزید بتایا کہ ہسپتال سے چھٹی کے وقت امالیہ کو جو سانس لینے والی مشین (nebulizer) اور ادویات دی گئی تھیں، وہ حراستی مرکز کے عملے نے ضبط کر لیں۔

بچی کا وزن 10 فیصد تک کم ہو گیا تھا، اور اسے وزن بڑھانے کے لیے دیے گئے غذائی مشروبات بھی حکام نے چھین لیے تھے۔

سینکڑوں دیگر خاندان بھی وہاں پینے کے صاف پانی، صحت بخش خوراک اور مناسب طبی دیکھ بھال سے محروم ہیں۔

“امالیہ کے والدین، جن کا تعلق وینزویلا سے ہے، 2024 سے امریکہ میں مقیم ہیں۔ ان کی بیٹی میکسیکو کی شہری ہے اور یہ خاندان امریکہ میں سیاسی پناہ (asylum) کی درخواست دینے کا ارادہ رکھتا ہے۔”

ٹرمپ انتظامیہ پر اس سے قبل بھی بڑے پیمانے پر ملک بدری کے پروگرام کے دوران غیر انسانی ہتھکنڈوں اور عدالتی احکامات کی خلاف ورزی کے الزامات لگتے رہے ہیں۔ حال ہی میں مشی گن کے ایک وفاقی جج نے بھی ایک 5 سالہ بچے کی حراست پر انتظامیہ کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *