فلوریڈا(ویب ڈیسک): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کے روز خبردار کیا ہے کہ اگر کینیڈا نے چین کے ساتھ کوئی تجارتی معاہدہ کیا تو وہ کینیڈا پر 100 فیصد ٹیرف (درآمدی ڈیوٹی) عائد کر دیں گے۔ انہوں نے کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی کو متنبہ کیا کہ ایسا کوئی بھی معاہدہ ان کے ملک کو خطرے میں ڈال دے گا۔
ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا ایپ ‘ٹروتھ سوشل’ پر لکھا: “چین کینیڈا کو زندہ نگل جائے گا اور اسے مکمل طور پر تباہ کر دے گا، جس میں ان کے کاروبار، سماجی ڈھانچے اور طرز زندگی کی تباہی بھی شامل ہے۔”
انہوں نے واضح کیا کہ اگر کینیڈا نے چین کے ساتھ ڈیل کی، تو امریکہ میں داخل ہونے والی تمام کینیڈین مصنوعات پر فوری طور پر 100 فیصد ٹیرف لگا دیا جائے گا۔
ٹرمپ نے شبہ ظاہر کیا کہ چین کینیڈا کو امریکی ٹیرف سے بچنے کے لیے ایک راستے کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے کہا، “اگر مارک کارنی یہ سمجھتے ہیں کہ وہ کینیڈا کو چین کے لیے ‘ڈراپ آف پورٹ’ بنا دیں گے، تو یہ ان کی بہت بڑی بھول ہے۔”
یہ تناؤ اس وقت شدت اختیار کر گیا جب مارک کارنی نے حال ہی میں چین کو ایک “قابل بھروسہ شراکت دار” قرار دیا اور ڈیووس میں یورپی رہنماؤں کو چین میں سرمایہ کاری کی ترغیب دی۔
مزید برآں، ٹرمپ نے جمعرات کے روز کینیڈا کو اپنے “بورڈ آف پیس” (عالمی تنازعات کے حل کا اقدام) میں شامل ہونے کی دعوت بھی واپس لے لی۔ یہ فیصلہ مارک کارنی کی اس تقریر کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے طاقتور ممالک کی جانب سے تجارتی پابندیوں اور ٹیرف کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کی مخالفت کی تھی۔
