واشنگٹن (نیوز ڈیسک): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے حالیہ خطاب میں اپنی ٹیرف (درآمدی ڈیوٹی) پالیسیوں کو شاندار کامیابی قرار دیتے ہوئے اسے ملک کی معاشی طاقت کا محور قرار دیا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان محصولات کے ذریعے غیر ملکی ممالک سے اربوں ڈالر امریکی خزانے میں لائے گئے ہیں۔
خطاب کے دوران صدر ٹرمپ نے ماضی کی مثالیں دیتے ہوئے کہا:
“ہماری اس غیر معمولی کامیابی کی سب سے بڑی وجہ ٹیرف کا تاریخی استعمال ہے۔ یہ ٹیرف ہی تھے جنہوں نے گزشتہ نسلوں میں امریکہ کو مضبوط اور طاقتور بنایا تھا۔”
تاہم، انہوں نے اس بات پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا کہ ان کے اس صوابدیدی اختیار اور محصولات کی قانونی حیثیت کو اب سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔
صدر ٹرمپ کی ان پالیسیوں کو کئی چھوٹے کاروباری اداروں اور امریکی ریاستوں کے ایک گروپ نے عدالت میں چیلنج کر رکھا ہے
مخالفین کا موقف ہے کہ صدر نے درآمدی سامان پر اضافی ٹیکس لگانے میں اپنے آئینی اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔
چھوٹے کاروباروں کا دعویٰ ہے کہ ان ٹیکسوں کا بوجھ براہِ راست ان پر اور امریکی صارفین پر پڑ رہا ہے۔
اگر ٹرمپ انتظامیہ سپریم کورٹ میں یہ مقدمہ ہار جاتی ہے، تو حکومت کو اب تک جمع کیے گئے اربوں ڈالر ان کمپنیوں اور اداروں کو واپس (Refund) کرنے پڑ سکتے ہیں جن سے یہ وصول کیے گئے تھے۔ یہ صورتحال امریکی معیشت اور انتظامیہ کے بجٹ کے لیے ایک بڑا دھچکا ثابت ہو سکتی ہے۔
