نیویارک (نیوز ڈیسک): نیویارک سٹی کونسل کے ایک ڈیٹا اینالسٹ کی لانگ آئی لینڈ میں معمول کی امیگریشن سماعت کے دوران حراست کے خلاف آج منگل کو مین ہٹن میں احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔
محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) نے زیرِ حراست ملازم کی شناخت رافیل اینڈریس روبیو بوہورکیز کے نام سے کی ہے، جن کا تعلق وینزویلا سے ہے۔
محکمہ کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا:”12 جنوری کو آئی سی ای (ICE) نیویارک نے رافیل اینڈریس روبیو کو گرفتار کیا، جو سٹی کونسل کا ملازم ہے۔ اس کے مجرمانہ ریکارڈ میں ‘حملے’ (Assault) کے الزام میں گرفتاری شامل ہے اور اس کے پاس کام کرنے کی قانونی اجازت (Work Authorization) نہیں تھی۔”
حکام کے مطابق روبیو 2017 میں بی ٹو (B2) سیاحتی ویزا پر امریکہ داخل ہوئے تھے اور انہیں اسی سال ملک چھوڑنا تھا، تاہم وہ غیر قانونی طور پر مقیم رہے۔
سٹی کونسل کی اسپیکر جولی مینن نے کہا کہ کونسل روبیو کی رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ انہوں نے پیر کو ارکانِ اسمبلی اور تارکینِ وطن کے حامیوں کے ساتھ ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ آئی سی ای کی جانب سے معلومات بہت محدود فراہم کی گئی ہیں اور روبیو گزشتہ ایک سال سے قانونی طور پر ملازمت کر رہے تھے۔
نیویارک کے میئر زہران مامدانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘X’ پر اس واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے شہر کی اقدار پر حملہ قرار دیا:
“یہ ہماری جمہوریت، ہمارے شہر اور ہماری اقدار پر حملہ ہے۔ میں ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کرتا ہوں اور صورتحال پر نظر رکھوں گا۔”
روبیو کی رہائی کے لیے احتجاجی مظاہرہ آج دوپہر 12 بجے وارک اسٹریٹ (Varick Street) پر واقع ICE کے دفاتر کے باہر منعقد کیا جائے گا۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ ایک سرکاری ملازم کی اس طرح حراست شہریوں میں خوف و ہراس پھیلانے کے مترادف ہے
