کراچی(ویب ڈیسک): جنوبی کراچی کے جوڈیشل مجسٹریٹ نے مصطفیٰ امیر قتل کیس کے مرکزی ملزم ارمغان کی ایک دوسرے مقدمے میں ضمانت منظور کر لی ہے۔ یہ مقدمہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (PECA) کے تحت ایک مبینہ غیر قانونی کال سینٹر چلانے سے متعلق ہے۔
جوڈیشل مجسٹریٹ (غربی) کے سامنے سماعت کے دوران دفاعی وکیل خرم عباس اعوان نے دلائل دیے کہ ملزم کے خلاف اب تک کوئی چارج شیٹ جمع نہیں کرائی گئی، اور نہ ہی تفتیشی افسر یا کوئی گواہ عدالت میں پیش ہوا ہے۔ عدالت نے دلائل سننے کے بعد ایک لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکوں کے عوض ارمغان کی ضمانت منظور کر لی۔ تاہم، مصطفیٰ امیر قتل کیس میں ملوث ہونے کی وجہ سے ملزم بدستور جیل میں ہی رہے گا۔
تفتیشی رپورٹ میں ملزم ارمغان اور اس کے ساتھیوں کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات سامنے آئے ہیں:
ملزم ڈیفنس کے علاقے خیابانِ مومن میں ایک بنگلے میں کال سینٹر چلاتا تھا جہاں 30 سے 40 لڑکے لڑکیاں کام کرتے تھے۔ بنگلے میں غیر قانونی طور پر شیر کے تین بچے بھی رکھے گئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق، 6 جنوری کو ارمغان نے مصطفیٰ امیر کو بنگلے پر بلایا جہاں ذاتی تنازع پر اسے لوہے کی سلاخ سے تشدد کا نشانہ بنایا۔ ملزم اور اس کے ساتھی شیراز نے مقتول کے ہاتھ پاؤں چادر سے باندھے اور اسے گاڑی کی ڈگی میں ڈال کر حب (بلوچستان) لے گئے۔
ملزم نے حب کے قریب مقتول کی لاش سمیت گاڑی کو آگ لگا دی۔ اس سے قبل بنگلے میں خون کے دھبے صاف کروائے گئے اور مقتول کا موبائل فون اور دیگر سامان راستے میں پھینک دیا گیا۔
ارمغان کو 8 فروری کو پولیس کے ساتھ چار گھنٹے تک جاری رہنے والے مقابلے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ اس مقابلے کے دوران ملزم کی فائرنگ سے ایک ڈی ایس پی اور کانسٹیبل زخمی ہوئے تھے۔
اس کیس کی تفتیش کے دوران کراچی میں منشیات (خاص طور پر کینابس) کی سپلائی کے ایک بڑے نیٹ ورک کا بھی انکشاف ہوا۔ پولیس کریک ڈاؤن کے نتیجے میں کئی افراد کو گرفتار کیا گیا، جن میں معروف اداکار ساجد حسن کے بیٹے سارم حسن بھی شامل تھے۔
