سوئٹزرلینڈمیں خوفناک حادثہ:ملک بھرمیں پانچ روزہ سوگ کا اعلان

لاٹلی کے وزیر خارجہ کے مطابق 15 اطالوی شہری لاپتہ ہیں، جبکہ فرانس نے بھی اپنے 8 شہریوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی ہے۔

Editor News

سوئٹزرلینڈ : سوئٹزرلینڈ کے الپس پہاڑی سلسلے میں واقع سیاحتی قصبے کرانز مونٹانا (Crans-Montana) میں نئے سال کے جشن کے دوران ایک بار میں خوفناک آگ لگنے سے کم از کم 40 افراد ہلاک اور 115 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ سوئٹزرلینڈ کی تاریخ کے بدترین سانحات میں سے ایک قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ حادثہ جمعرات کی علی الصبح تقریباً 1:30 بجے “لی کونسٹیلیشن” (Le Constellation) نامی بار میں پیش آیا، جو نوجوان سیاحوں میں کافی مقبول ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق، آگ اس وقت لگی جب ویٹریسز شیمپین کی بوتلوں پر لگے “اسپارکلرز” (آتش بازی والی موم بتیاں) لے کر میزوں کی طرف جا رہی تھیں۔ یہ چنگاریاں لکڑی کی چھت سے ٹکرائیں، جس نے سیکنڈوں میں پوری عمارت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

اب تک تقریباً 40 افراد کی ہلاکت کی تصدیق ہو چکی ہے، جن میں بڑی تعداد نوجوانوں کی ہے۔115 افراد زخمی ہیں، جن میں سے کئی کی حالت نازک ہے اور وہ شدید جھلس چکے ہیں۔ زخمیوں کو سوئٹزرلینڈ کے مختلف شہروں سمیت فرانس اور اٹلی کے ہسپتالوں میں بھی منتقل کیا گیا ہے۔

لاٹلی کے وزیر خارجہ کے مطابق 15 اطالوی شہری لاپتہ ہیں، جبکہ فرانس نے بھی اپنے 8 شہریوں کے لاپتہ ہونے کی اطلاع دی ہے۔

سوئس حکام کا کہنا ہے کہ لاشیں اس حد تک جھلس چکی ہیں کہ ان کی شناخت کے لیے ڈی این اے (DNA) اور دانتوں کے نمونوں کا سہارا لینا پڑ رہا ہے، جس میں کئی دن یا ہفتے لگ سکتے ہیں۔

سوئٹزرلینڈ کے صدر گائے پارملین نے اسے ایک “خوفناک المیہ” قرار دیتے ہوئے ملک بھر میں پانچ روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے اور قومی پرچم سرنگوں کر دیے گئے ہیں۔

پراسیکیوٹر بیٹریس پیلوڈ نے کہا ہے کہ اس بات کی تفتیش کی جا رہی ہے کہ آیا بار میں حفاظتی معیارات (Safety Standards) پورے تھے اور ہنگامی اخراج کے راستے کافی تھے یا نہیں۔

بچنے والے عینی شاہدین نے بتایا کہ آگ لگتے ہی بار میں کہرام مچ گیا۔ لوگوں نے جان بچانے کے لیے کھڑکیاں توڑیں اور کئی لوگ جھلسی ہوئی حالت میں سڑکوں پر بھاگتے ہوئے دیکھے گئے۔ علاقے میں اس وقت شدید دکھ اور خوف کا ماحول ہے، اور لوگ جائے وقوعہ پر موم بتیاں روشن کر کے اپنے پیاروں کو یاد کر رہے ہیں۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *