ٹرمپ انتظامیہ کا بڑا اقدام: رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑنے والے تارکین وطن کے وظیفے میں تین گنا اضافہ

اس کے مقابلے میں 3,000 ڈالر کا وظیفہ دے کر انہیں واپس بھیجنا حکومت کے لیے مالی طور پر زیادہ سودمند ثابت ہوگا

Editor News

واشنگٹن(ویب ڈیسک): صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے امریکہ سے رضاکارانہ طور پر اپنے ممالک واپس جانے والے غیر قانونی تارکین وطن کے لیے مالی امداد (اسٹائپنڈ) کی رقم تین گنا بڑھا کر 3,000 ڈالر کر دی ہے۔ پیر کے روز امریکی محکمہ داخلہ (DHS) نے اس نئی پالیسی کا باضابطہ اعلان کیا۔

محکمہ داخلہ کے مطابق، یہ رقم ان افراد کو دی جائے گی جو امریکہ میں غیر قانونی طور پر مقیم ہیں اور رواں سال کے اختتام تک رضاکارانہ طور پر ملک چھوڑنے کے معاہدے پر دستخط کریں گے۔ اس پیشکش میں نہ صرف نقد رقم شامل ہے بلکہ ان کے آبائی وطن واپسی کے لیے مفت ہوائی ٹکٹ بھی فراہم کیا جائے گا۔

ٹرمپ انتظامیہ نے مارچ میں “CBP Home” کے نام سے ایک ری برانڈڈ ایپ بھی لانچ کی ہے تاکہ لوگوں کے لیے خود کو ڈی پورٹ (Self-deport) کرنے کا عمل آسان بنایا جا سکے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی ایپ سابقہ بائیڈن انتظامیہ کے دور میں “CBP One” کے نام سے جانی جاتی تھی اور اس وقت اسے تارکین وطن کو قانونی طور پر امریکہ میں داخل کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا تھا۔

محکمہ داخلہ نے مئی میں واضح کیا تھا کہ کسی غیر قانونی مقیم شخص کو گرفتار کرنے، حراست میں رکھنے اور زبردستی ڈی پورٹ کرنے پر اوسطاً 17,000 ڈالر فی کس خرچہ آتا ہے۔ اس کے مقابلے میں 3,000 ڈالر کا وظیفہ دے کر انہیں واپس بھیجنا حکومت کے لیے مالی طور پر زیادہ سودمند ثابت ہوگا۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ، جنہوں نے جنوری میں ریکارڈ سطح پر ملک بدری کے وعدے کے ساتھ اقتدار سنبھالا تھا، شدید عوامی ردعمل کے باوجود امیگریشن کے خلاف کریک ڈاؤن جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اگرچہ انہوں نے سالانہ 10 لاکھ تارکین وطن کو نکالنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم ان کی انتظامیہ اب تک اس سال تقریباً 6 لاکھ 22 ہزار افراد کو ڈی پورٹ کرنے میں کامیاب رہی ہے۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *