ہالی ووڈ کے معروف فلم ساز راب رینر اور ان کی اہلیہ قتل، بیٹا فردِ جرم کا شکار

لاس اینجلس کاؤنٹی کے ڈسٹرکٹ اٹارنی ناتھن ہوچمین نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ نک رینر پر قتل کی دو دفعات عائد کی گئی ہیں۔

Editor News

لاس اینجلس(ویب ڈیسک): ہالی ووڈ کے مایہ ناز فلم ساز اور سیاسی کارکن راب رینر اور ان کی اہلیہ مشیل رینر کے بہیمانہ قتل نے شوبز کی دنیا کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

منگل کے روز لاس اینجلس کے استغاثہ نے ان کے 32 سالہ بیٹے، نک رینر پر اپنے والدین کو چاقو کے وار کر کے قتل کرنے کے الزام میں ‘فرسٹ ڈگری مرڈر’ (قتلِ عمد) کی باقاعدہ فردِ جرم عائد کر دی ہے

78 سالہ اداکار و ہدایت کار راب رینر اور ان کی 70 سالہ اہلیہ مشیل رینر کی لاشیں اتوار کی دوپہر لاس اینجلس کے متمول علاقے ‘برینٹ ووڈ’ میں واقع ان کے گھر سے برآمد ہوئیں۔ پولیس نے چند گھنٹوں بعد ہی نک رینر کو جنوبی کیلیفورنیا یونیورسٹی (USC) کے قریب واقع ایک پارک سے حراست میں لے لیا تھا۔

لاس اینجلس کاؤنٹی کے ڈسٹرکٹ اٹارنی ناتھن ہوچمین نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ نک رینر پر قتل کی دو دفعات عائد کی گئی ہیں۔

ہوچمین کے مطابق ان الزامات کے تحت نک کو عمر قید یا سزائے موت ہو سکتی ہے، تاہم استغاثہ نے ابھی سزائے موت کی درخواست کرنے کا حتمی فیصلہ نہیں کیا۔

چارجنگ دستاویزات کے مطابق قتل میں چاقو کا استعمال کیا گیا، تاہم حملے کی وجوہات یا محرکات ابھی تک سامنے نہیں آسکے ہیں۔

نک رینر نے ماضی میں عوامی سطح پر منشیات کے استعمال اور ذہنی صحت کے ساتھ اپنی طویل جدوجہد کا اعتراف کیا تھا۔

انہوں نے اپنے ان تجربات پر مبنی ایک فلم ‘بیئنگ چارلی’ (Being Charlie) بھی لکھی تھی، جسے ان کے والد راب رینر نے ہی ڈائریکٹ کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق، قتل سے ایک رات قبل ایک پارٹی میں باپ اور بیٹے کے درمیان تلخ کلامی بھی سنی گئی تھی۔

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *