بونڈائی بیچ پرفائرنگ کےواقعے پرمیئر زوہران مامدانی کا شدیدردِعمل

انہوں نے نیویارکرز سے اپیل کی کہ وہ اس مقصد کو مشترکہ ذمہ داری بنائیں اور اس خوفناک تشدد کو ہمیشہ کے لیے ماضی کا حصہ بنا دیں۔

Editor News

آسٹریلیا کے شہر سڈنی کے بونڈائی بیچ پر حنوکہ کی تقریب کے دوران ہونے والے فائرنگ کے واقعے پر نیویارک کے نو منتخب میئر زوہران مامدانی نے شدید ردِعمل دیتے ہوئے اسے ’’یہود دشمن دہشت گردی کی ایک گھناؤنی کارروائی‘‘ قرار دیا ہے اور یہودی نیویارکرز کو محفوظ رکھنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔

اتوار کو سڈنی کے مشہور ساحل پر منعقدہ Chanukah by the Sea تقریب کے دوران کم از کم دو مسلح افراد نے فائرنگ کر دی، جس کے نتیجے میں بچوں سمیت 11 افراد ہلاک اور کم از کم 29 زخمی ہو گئے۔

زوہران مامدانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر اپنے پیغام میں کہا
“سڈنی میں حنوکہ کی تقریب پر آج ہونے والا حملہ یہود دشمن دہشت گردی کی ایک گھناؤنی مثال ہے۔ میں ان افراد پر سوگ مناتا ہوں جو قتل کیے گئے، اور ان کے خاندانوں، یہودی برادری اور چاباد تحریک کو اپنی دعاؤں میں یاد رکھوں گا۔”

انہوں نے مزید کہا،
“جن لوگوں نے اپنی جانیں گنوائیں، ان کی یادیں باعثِ برکت ہوں۔ اگرچہ ہم ابھی تمام حقائق کے سامنے آنے کا انتظار کر رہے ہیں، لیکن جو کچھ ہم جانتے ہیں وہ دل دہلا دینے والا ہے۔”

نو منتخب میئر نے بتایا کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والوں میں ربی ایلی شلانگر بھی شامل ہیں، جن کے نیویارک کے علاقے کراؤن ہائٹس سے گہرے تعلقات تھے۔ ربی شلانگر کی اہلیہ نے دو ماہ قبل ہی ایک بچے کو جنم دیا تھا، اور انہوں نے چند ہفتے قبل آسٹریلوی وزیرِ اعظم کو اسرائیل کی حمایت کے حوالے سے ایک خط بھی لکھا تھا۔

ممدانی نے کہا،
“ایک اور یہودی برادری غم اور نقصان میں ڈوب گئی ہے۔ روشنی کا تہوار اس قدر دردناک انداز میں تاریکی کے دن میں بدل گیا۔ یہ حملہ دنیا بھر میں یہودیوں کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کے ایک خوفناک سلسلے کی تازہ مثال ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ آج بہت سے یہودی خود کو غیر محفوظ محسوس کرتے ہیں، اپنے عقیدے کے اظہار، عبادت گاہوں میں عبادت اور مذہبی شناخت کے ساتھ جینے میں خوف کا شکار ہیں۔
“بونڈائی میں جو کچھ ہوا، وہی وہ خدشہ ہے جس سے دنیا بھر کی یہودی برادریاں خوفزدہ ہیں۔”

واضح رہے کہ زوہران مامدانی نیویارک شہر کے پہلے مسلم میئر ہیں، اور انتخابی مہم کے دوران ان کے یہودی برادری کے ساتھ تعلقات تناؤ کا شکار رہے۔ نیویارک کے یہودی رہنماؤں نے ان کے اسرائیل پر سخت تنقیدی مؤقف، بی ڈی ایس تحریک کی حمایت اور بعض نعروں کی مذمت سے گریز پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔

تاہم اتوار کو جاری بیان میں مامدانی نے یقین دہانی کراتے ہوئے کہا،
“جب میں میئر بنوں گا تو ہر دن یہودی نیویارکرز کو محفوظ رکھنے کے لیے کام کروں گا — ہماری سڑکوں پر، سب وے میں، عبادت گاہوں میں اور ہر لمحہ۔”

انہوں نے نیویارکرز سے اپیل کی کہ وہ اس مقصد کو مشترکہ ذمہ داری بنائیں اور اس خوفناک تشدد کو ہمیشہ کے لیے ماضی کا حصہ بنا دیں۔

اس تقریب میں سینکڑوں افراد شریک تھے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں ایک سفید قمیض میں ملبوس شخص کو ایک حملہ آور پر پیچھے سے حملہ کر کے اس سے شاٹ گن چھینتے دیکھا جا سکتا ہے، جس کے باعث متعدد جانیں بچ گئیں۔

مقامی میڈیا کے مطابق اس بہادر شخص کی شناخت 43 سالہ احمد ال احمد کے طور پر ہوئی ہے، جو فروٹ کی دکان کے مالک ہیں۔

پولیس کے مطابق ایک مشتبہ حملہ آور مارا گیا جبکہ دوسرا زخمی حالت میں زیر علاج ہے، اور اس بات کی تحقیقات جاری ہیں کہ آیا کوئی تیسرا حملہ آور بھی اس واقعے میں شامل تھا یا نہیں۔

واضح رہے کہ اتوار حنوکہ کا پہلا دن تھا۔ اس موقع پر مامدانی نے کہا،
“آج رات جب یہودی نیویارکرز غم کے سائے میں حنوکہ کی پہلی شمع روشن کریں گے، تو ہمیں اس بہادری کی مثال کو سامنے رکھتے ہوئے نفرت کا مقابلہ فوری اور مؤثر عمل سے کرنا ہوگا۔”

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *