فلوریڈا کے گورنر نے امریکی مسلم تنظیم CAIR کو “غیر ملکی دہشت گرد تنظیم” قرار دے دیا

فلوریڈا کی قانون ساز اسمبلی "شریعت کے نفوذ کو روکنے" کے لیے قانون سازی کر رہی ہے

Editor News

فلوریڈا(ویب ڈیسک)ن: فلوریڈا کے گورنر رون ڈی سینٹس نے پیر کے روز ایک ایگزیکٹو آرڈر جاری کرتے ہوئے کونسل آن امریکن۔اسلامک ریلیشنز (CAIR) کو “غیر ملکی دہشت گرد تنظیم” قرار دے دیا۔ یہ اقدام ٹیکساس کے ریپبلکن گورنر کی گزشتہ ماہ کی گئی اسی نوعیت کی نامزدگی کے بعد سامنے آیا ہے۔ CAIR دونوں ریاستوں کی اس کارروائی کو مسترد کرتے ہوئے قانونی چیلنجز دائر کر چکا ہے۔

ڈی سینٹس نے ایک الگ بیان میں کہا کہ فلوریڈا کی قانون ساز اسمبلی “شریعت کے نفوذ کو روکنے” کے لیے قانون سازی کر رہی ہے اور امید ظاہر کی کہ یہ اقدامات CAIR اور مسلم برادرہُڈ کے خلاف ریاستی تحفظ کو قانون کا حصہ بنائیں گے۔ ایگزیکٹو آرڈر میں مسلم برادرہُڈ کو بھی دہشت گرد تنظیم قرار دیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں ریاستی سطح پر سخت نگرانی، مالیاتی پابندیوں اور آپریشنل رکاوٹوں کا نفاذ شامل ہے۔

گورنر ڈی سینٹس نے اپنے حکم نامے میں دعویٰ کیا کہ CAIR کا قیام ایسے افراد نے کیا جن کا تعلق مسلم برادرہُڈ سے تھا، اور بغیر شواہد کے کہا کہ یہ تنظیم “عالمی اسلامی خلافت” قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس کے حماس سے روابط ہیں۔ حکم نامے میں ہدایات دی گئی ہیں کہ ریاستی ادارے ان تنظیموں یا ان کی معاونت کرنے والے افراد کو کوئی سرکاری معاہدہ، ملازمت یا فنڈز فراہم نہ کریں۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ نہ CAIR اور نہ ہی مسلم برادرہُڈ کو امریکی وفاقی حکومت کی جانب سے دہشت گرد تنظیموں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

CAIR کے فلوریڈا چیپٹر نے اس فیصلے کو “غیر آئینی” اور “توہین آمیز” قرار دیتے ہوئے ڈی سینٹس کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تنظیم نے الزام لگایا کہ گورنر فلوریڈا کے عوام کے بجائے “غیر ملکی مفادات” کو ترجیح دے رہے ہیں اور ان کا یہ اقدام CAIR کی شہری حقوق کی سرگرمیوں کے ردعمل میں ہے۔

CAIR نے اپنے بیان میں کہا:
“فلوریڈا کا گورنر بننے کے بعد سے رون ڈی سینٹس نے ریاست اسرائیل کی خدمت کو ترجیح دی ہے۔ انہوں نے اپنی پہلی سرکاری کابینہ کی میٹنگ اسرائیل میں کی، فلوریڈا کے عوام کے ٹیکس سے لاکھوں ڈالر اسرائیلی بانڈز میں لگائے، اور ریاست کی تمام جامعات میں ‘اسٹوڈنٹس فار جسٹس ان فلسطین’ کے چیپٹرز بند کرنے کی دھمکی دی—مگر CAIR کی جانب سے وفاقی عدالت میں مقدمہ دائر کرنے کے بعد پیچھے ہٹ گئے۔”

1994 میں قائم ہونے والی CAIR کے ملک بھر میں 25 چیپٹرز ہیں۔ گزشتہ ماہ اس نے ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ کی جانب سے لگائی گئی نامزدگی کو ختم کرنے کے لیے ایک وفاقی جج سے رجوع کیا تھا، جسے CAIR نے امریکی آئین اور ٹیکساس کے قوانین دونوں کے خلاف قرار دیا۔

CAIR کا کہنا ہے کہ دونوں گورنرز—ڈی سینٹس اور ایبٹ—”اسرائیل فرسٹ سیاست دان” ہیں اور ان کے یہ اقدامات امریکی مسلمانوں، خصوصاً ان افراد، کو خاموش کرانے کی کوشش ہیں جو امریکی حمایت یافتہ اسرائیلی جنگی جرائم پر تنقید کرتے ہیں۔

تقریباً ایک صدی قبل مصر میں قائم ہونے والی مسلم برادرہُڈ کے دنیا بھر میں مختلف چیپٹرز ہیں، اور اس کے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ تنظیم کا مقصد جمہوری اور غیر تشدد آمیز ذرائع سے اسلامی حکمرانی کا قیام ہے

Share This Article
Leave a Comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *