رپورٹ : سیّدحاجب حسن
پورٹو ریکو: امریکہ کے اعلیٰ ترین فوجی افسر (چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف) ڈین کین نے پیر کو پورٹو ریکو کا دورہ کیا، کیونکہ واشنگٹن کی جانب سے مبینہ منشیات مخالف آپریشنز پر وینزویلا سے بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان کیریبین میں کئی دہائیوں میں اپنی سب سے بڑی بحری تعیناتی جاری ہے۔
دورہ اور بیان: چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے چیف ملٹری ایڈوائزر ڈین کین نے پیر کو پورٹو ریکو میں تعینات فوجیوں اور علاقائی پانیوں میں ایک نیوی جنگی جہاز پر موجود اہلکاروں سے ملاقات کی۔ کین کے دفتر نے کہا کہ اس دورے سے انہیں “سروس ممبران کے ساتھ تبادلہ خیال کرنے اور علاقائی مشنوں میں ان کی شاندار حمایت پر شکریہ ادا کرنے” کا موقع ملے گا۔
بڑے پیمانے پر تعیناتی: یہ خطے میں کین کا دوسرا دورہ ہے جب سے پینٹاگون نے کیریبین میں اپنی کارروائیوں کو وسعت دی ہے، جس میں نیوی کا سب سے نیا اور سب سے بڑا طیارہ بردار بحری جہاز جیرالڈ آر فورڈ بھی شامل ہے۔ کین کے پہلے دورے کے دوران، امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا تھا کہ تعینات میرینز “امریکی وطن کے دفاع کی فرنٹ لائن” پر ہیں۔
بحری حملے اور قانونی سوالات: یہ آپریشن ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ وینزویلا کے خلاف مزید اقدامات پر غور کر رہے ہیں، جن میں جارحانہ آپشنز بھی شامل ہیں جنہیں انہوں نے رد نہیں کیا ہے۔
انتظامیہ کے ان بحری جہازوں پر بحری حملوں میں، جن کے بارے میں اس کا کہنا ہے کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث تھے، 21 کشتیوں پر کم از کم 83 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ کوئی ثبوت جاری نہیں کیا گیا جس سے یہ ظاہر ہو کہ جہازوں پر منشیات موجود تھی، اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر منشیات کی سرگرمی ثابت بھی ہو جائے تو بھی یہ حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہو سکتے ہیں۔
پیر کو امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے مشیروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک نامعلوم تاریخ پر وینزویلا کے صدر نکولس مادورو سے براہ راست بات چیت کا ارادہ رکھتے ہیں۔
تقریباً 15,000 امریکی اہلکار اب کیریبین میں موجود ہیں، جن میں امفیبیئس (Amphibious) جہازوں پر میرینز اور پورٹو ریکو میں تقریباً 5,000 سروس ممبران شامل ہیں۔
واشنگٹن نے تشدد اور منشیات کی اسمگلنگ پر قابو پانے کے مقصد سے ایک ماہ کے اندر مشترکہ مشقوں کا دوسرا دور شروع کرتے ہوئے ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کے ساتھ بھی مشترکہ فوجی مشقوں کو تیز کر دیا ہے۔
کین کے کل ٹرینیڈاڈ اور ٹوباگو کا دورہ کرنے اور وزیر اعظم کاملا پرساد بسیسر سے ملاقات کرنے کی توقع ہے۔
امریکہ نے کارٹیل ڈی لاس سولس – یا کارٹیل آف دی سنز – کو ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم (FTO) قرار دے کر کراکس پر دباؤ بڑھا دیا ہے، حالانکہ یہ نیٹ ورک روایتی معنوں میں کوئی کارٹیل نہیں ہے۔ اس سال تک، FTO کا لیبل زیادہ تر القاعدہ اور داعش (ISIS) جیسے سیاسی محرکات رکھنے والے گروپوں تک محدود تھا۔
: پیر کو، واشنگٹن نے مبینہ طور پر امریکہ میں منشیات کی ترسیل کے الزام میں باضابطہ طور پر کارٹیل ڈی لاس سولس کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک میں مادورو اور وینزویلا کے سینئر حکام شامل ہیں، حالانکہ اس نے کوئی ثبوت فراہم نہیں کیا ہے۔
وینزویلا نے اس اقدام کی مذمت کی اور اسے ایک “مضحکہ خیز” کوشش قرار دیا جس کا مقصد ایک “غیر موجود” گروپ پر پابندی لگانا ہے۔
ہیگسیتھ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ نئی نامزدگی سے مادورو سے نمٹنے کے لیے “امریکہ کے لیے بہت سارے نئے آپشنز” فراہم ہوں گے۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ان آپشنز میں وینزویلا کے اندر زمینی حملے بھی شامل ہو سکتے ہیں، تو انہوں نے کہا کہ “کوئی بھی چیز خارج از امکان نہیں ہے، لیکن کچھ بھی خود بخود شامل نہیں ہے۔” پابندیوں کے ماہرین نے نوٹ کیا ہے کہ FTO کا قانون فوجی کارروائی کی اجازت نہیں دیتا۔
کراکس کا جوابی دباؤ
مادورو کی حکومت مجرمانہ کارروائیوں میں ملوث ہونے کی تردید کرتی ہے اور واشنگٹن پر الزام لگاتی ہے کہ وہ وینزویلا کے وسائل کو کنٹرول کرنے کے لیے حکومت کی تبدیلی کی کوشش کر رہا ہے۔
