لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

نیویارک کی بڑی سیلف اسٹوریج کمپنی ‘Extra Space’کو 17لاکھ ڈالرجرمانہ؛صارفین کوپیسے واپس ملیں گے

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نیویارک: نیویارک سٹی میں صارفین کے حقوق کے تحفظ اور بڑی کارپوریشنز کی من مانیوں کے خلاف میئر زہران ممدانی انتظامیہ کی مہم تیزی سے رنگ لا رہی ہے۔

میئر زوہران ممدانی اور ڈیپارٹمنٹ آف کنزیومر اینڈ ورکر پروٹیکشن (DCWP) کے کمشنر سیموئل اے اے لیوائن نے مشترکہ طور پر امریکہ کی سب سے بڑی سیلف اسٹوریج کمپنیوں میں سے ایک، ‘ایکسٹرا اسپیس’ (Extra Space) کے ساتھ 1.7 ملین ڈالرز (17 لاکھ ڈالر) کے تاریخی تصفیے (Settlement) کا اعلان کیا ہے۔ یہ تصفیہ کمپنی کی جانب سے نیویارک سٹی کے کنزیومر پروٹیکشن لاء کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیوں کے بعد سامنے آیا ہے۔

ڈی سی ڈبلیو پی (DCWP) نے فروری 2026 میں کمپنی کے خلاف دھوکہ دہی اور غاصبانہ کاروباری طریقوں پر مقدمہ دائر کیا تھا۔ اب کمپنی متاثرہ صارفین کو 1 ملین ڈالر (10 لاکھ ڈالر) ہرجانہ اور سٹی کو 7 لاکھ ڈالر سے زائد کا سول جرمانہ ادا کرنے پر راضی ہو گئی ہے۔

کم قیمت کا لالچ، گندے اسٹوریج اور سامان کی غیر قانونی نیلامی
تفتیش کے دوران معلوم ہوا کہ ایکسٹرا اسپیس کمپنی نیویارکرز کے ساتھ شدید دھوکہ دہی میں ملوث تھی۔ میئر زہران ممدانی نے اس حوالے سے سخت موقف اپناتے ہوئے کہا:

“لوگ اپنے خاندان کی یادیں اور قیمتی سامان محفوظ رکھنے کے لیے ایکسٹرا اسپیس کو پیسے دیتے ہیں، اس لیے نہیں کہ ان کے سامان کو لاوارث چھوڑ دیا جائے، یرغمال بنایا جائے یا نیلام کر دیا جائے۔ اس کمپنی نے پہلے کم قیمتوں کا لالچ دے کر نیویارکرز کو پھنسایا، پھر من مانے ریٹس بڑھائے، اسٹوریج یونٹس کو گندگی کی نذر ہونے دیا اور جب لوگ ادائیگی نہ کر سکے تو ان کا ذاتی سامان چھین کر نیلام کر دیا۔ آج یہ کمپنی 17 لاکھ ڈالر بھر رہی ہے، اور شہر کی ہر اسٹوریج کمپنی کان کھول کر سن لے: اگر آپ نے نیویارکرز کو لوٹا، تو ہماری انتظامیہ آپ کا کڑا احتساب کرے گی۔”

ڈپٹی میئر برائے اکنامک جسٹس جولی سو اور کمشنر سیموئل لیوائن نے بھی واضح کیا کہ نیویارک میں جگہ کی شدید کمی کا فائدہ اٹھا کر یہ کمپنیاں شہریوں کو لوٹ رہی تھیں، یہاں تک کہ احتجاج کرنے پر لوگوں کی خاندانی تصاویر اور یادگار اشیاء تک نیلام کر دی گئیں۔

کمپنی کی بڑی خلاف ورزیاں (Details of the Case)
ڈی سی ڈبلیو پی نے 2023 سے اب تک کمپنی کے خلاف 100 سے زائد شکایات کا جائزہ لیا، جس میں درج ذیل سنگین انکشافات ہوئے:

جھوٹی ایڈورٹائزنگ: صاف ستھرے یونٹس کا وعدہ کیا گیا لیکن صارفین کو ایسے اسٹوریج دیے گئے جہاں چوہوں کی بھرمار، گندگی، پانی کا رساؤ اور فنگس (Mold) موجود تھی۔

قیمتوں کا دھوکہ (Bait-and-Switch): گاہکوں کے شفٹ ہوتے ہی اچانک قیمتوں میں بھاری اضافہ کر دیا گیا، جبکہ تحریری طور پر 30 دن پہلے نوٹس دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔

ہڈن چارجز (Junk Fees): صارفین پر من مانی پوشیدہ فیسیں لگائی گئیں، اور کانٹریکٹ ختم کرنے کے بعد بھی پیسے کاٹے جاتے رہے۔

غیر قانونی لاک آؤٹ اور نیلامی: جن صارفین کے ذمے بقایاجات تھے، انہیں اپنے ہی سامان تک رسائی سے روک دیا گیا اور قانونی طریقہ کار (Due Process) پورا کیے بغیر ان کا سامان نیلام کر دیا گیا۔

تصفیے کے تحت اب کمپنی پر دھوکہ دہی پر مبنی اشتہارات پر پابندی ہوگی اور اسے کسی بھی گاہک کا سامان لاک یا نیلام کرنے سے پہلے سخت قانونی حفاظتی ضوابط پورے کرنے ہوں گے۔

یہ تصفیہ ایک ایسے وقت میں ہوا ہے جب نیویارک سٹی میں لوکل لاء 171 آف 2025 کے تحت 25 اگست 2026 سے سیلف اسٹوریج کمپنیوں کے لیے نیا لائسنسنگ پروگرام شروع ہو رہا ہے۔ اس کے بعد شہر کے تمام 300 سے زائد سیلف اسٹوریج فیسلیٹیز کے لیے ڈی سی ڈبلیو پی سے لائسنس حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ انتظامیہ نے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ اگر وہ بھی کسی اسٹوریج کمپنی کی دھوکہ دہی کا شکار ہوئے ہیں تو فوری طور پر NYC.gov/Consumers پر اپنی شکایت درج کروائیںئے ہیں تو فوری طور پر NYC.gov/Consumers پر اپنی شکایت درج کروائیں