لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

اقوامِ متحدہ نےغزہ میں شہریوں کےتحفظ کا مطالبہ کر دیا

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نیویارک: اقوامِ متحدہ (UN) اور بین الاقوامی فلاحی تنظیموں (NGOs) نے متنبہ کیا ہے کہ غزہ میں نام نہاد “جنگ بندی” کے باوجود اسرائیلی کنٹرول کے علاقوں میں مسلسل توسیع ہو رہی ہے، جس کے نتیجے میں عام شہریوں کی زندگیاں شدید خطرے میں پڑ گئی ہیں اور امدادی سرگرمیوں پر پابندیاں مزید سخت ہو چکی ہیں۔

انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر کام کرنے والے ایک مشترکہ رابطہ فورم نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی افواج ان نئے زیرِ کنٹرول علاقوں میں داخلے کی پابندیوں کو نافذ کرنے کے لیے جان لیوا طاقت کا استعمال کر رہی ہیں، جبکہ ان مقامات پر فضائی حملے اور فائرنگ کے تبادلے بھی رپورٹ ہوئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، 10 اکتوبر 2025 سے لے کر اپریل 2026 کے اوائل تک، اسرائیلی افواج کی تعیناتی کے قریبی علاقوں میں ہونے والے حملوں میں کم از کم 196 فلسطینیوں کی شہادت کی تصدیق کی جا چکی ہے، جن میں 18 خواتین اور 43 معصوم بچے بھی شامل ہیں۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ غزہ میں فلاحی امداد کی رسائی اسرائیلی پابندیوں کے باعث شدید ترین رکاوٹوں کا شکار ہے، جس کی وجہ سے زندگی بچانے والی سرگرمیاں یا تو تاخیر کا شکار ہو رہی ہیں یا مکمل طور پر رک گئی ہیں۔ امدادی کارکنوں کی شہادتوں کے بعد کئی عالمی تنظیمیں غزہ میں اپنے آپریشنز کو محدود کرنے یا عارضی طور پر معطل کرنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ کی اکثریتی آبادی متعدد بار نقل مکانی کر چکی ہے اور اب شدید ترین امن و امان کے مسائل اور بنیادی خدمات (پانی، خوراک، ادویات) کی عدم دستیابی کے باوجود انتہائی سکڑتے ہوئے علاقوں میں محصور ہو کر رہ گئی ہے۔

عالمی اداروں نے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیلی افواج کے قریب فلسطینیوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ فوری بند کیا جائے، بین الاقوامی قانون کے تحت شہریوں کو مکمل تحفظ فراہم کیا جائے، اور پورے غزہ میں امداد کی محفوظ اور بلا تعطل فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔