لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00

مصنوعی ذہانت انسانی سمجھ اورقوانین سےآگے نکل گئی، اقوام متحدہ کاتباہ کن خطرات کاانتباہ

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

جنیوا: اقوام متحدہ (United Nations) کے ایک آزاد بین الاقوامی سائنسی پینل نے مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence) کی تیز رفتار ترقی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ یہ ٹیکنالوجی انسانی سمجھ بوجھ اور حکومتی پالیسیوں سے کہیں زیادہ تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے۔

پینل کے مطابق، موجودہ صورتحال میں یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ مستقبل میں اے آئی (AI) کسی بڑے یا تباہ کن نقصان کا سبب نہیں بنے گی۔

جنیوا میں جاری کی گئی ایک ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ حکومتوں کو مؤثر قانون سازی کے لیے مضبوط سائنسی شواہد کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن AI کی برق رفتار پیش رفت کے باعث سائنسی تحقیق اور پالیسی سازی اس کا ساتھ دینے میں ناکام نظر آ رہی ہیں۔

پینل کے شریک چیئرمین یوشوا بینجیو (Yoshua Bengio) نے انکشاف کیا کہ مصنوعی ذہانت کی صلاحیتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور ایسے شواہد بھی ملے ہیں جہاں بعض AI سسٹمز دھوکہ دہی پر مبنی رویہ اختیار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ سائنسی علم اس بات کی ضمانت نہیں دے سکتا کہ مستقبل میں یہ سسٹمز خود کار طریقے سے یا بدنیتی پر مبنی استعمال کے ذریعے ہولناک نتائج پیدا نہیں کریں گے۔

رپورٹ کے مطابق، مستقبل قریب میں “ایجنٹک اے آئی” (Agentic AI) سسٹمز سامنے آنے والے ہیں، جو انسانی مداخلت کے بغیر حقیقی دنیا کے مختلف کام خود انجام دینے کی صلاحیت رکھیں گے۔ طویل مدت میں یہ ٹیکنالوجی خود کو بہتر بنانے، معیشتوں میں گہرائی تک شامل ہونے، اور کوانٹم کمپیوٹنگ (Quantum Computing) و بائیو ٹیکنالوجی (Biotechnology) کے ساتھ یکجا ہونے کی جانب بڑھ رہی ہے۔

رپورٹ میں تسلیم کیا گیا ہے کہ AI ریاضی اور سائنس جیسے شعبوں میں ماہرین کی سطح کی کارکردگی دکھا رہی ہے اور ادویات و ویکسین کی تیاری میں بھی مددگار ثابت ہو رہی ہے۔

تاہم، ماہرین کا کہنا ہے کہ ابھی یہ واضح نہیں کہ اس سے حاصل ہونے والے معاشی فوائد روزگار اور عالمی معیشت پر کیا اثرات مرتب کریں گے۔ دوسری جانب، اقوام متحدہ نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت کو غلط معلومات کی تشہیر، مالی فراڈ، سائبر حملوں اور حیاتیاتی خطرات (Biological Risks) کے لیے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس وقت دنیا کے کئی ممالک جدید AI سسٹمز کی نگرانی اور ضابطہ بندی کی صلاحیت ہی نہیں رکھتے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس (Antonio Guterres) نے عالمی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ AI کے محفوظ استعمال کے لیے فوری اقدامات کریں۔ انہوں نے سخت الفاظ میں کہا:”دنیا کسی ایسی چیز کو مؤثر انداز میں منظم نہیں کر سکتی جسے وہ مکمل طور پر سمجھتی ہی نہ ہو۔ AI میں بے پناہ امکانات موجود ہیں، لیکن اس کے خطرات بھی اتنے ہی حقیقی ہیں اور اب مزید انتظار کرنے کی قیمت بہت بھاری ہو سکتی ہے۔”