واشنگٹن (1 جولائی، 2026): امریکا کے سٹریٹجک پٹرولیم ذخائر (SPR) میں خام تیل کی مقدار گر کر گزشتہ چار دہائیوں (43 سال) کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔
خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق امریکی محکمہ توانائی کے تحت کام کرنے والے ادارے ‘انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن’ (EIA) نے اپنی تازہ رپورٹ میں اس کی تصدیق کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، 26 جون کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران توانائی کی کمپنیوں نے امریکی سٹریٹجک ذخائر سے 55 لاکھ (5.5 ملین) بیرل خام تیل نکالا، جس کے بعد امریکا کے کل محفوظ تیل کی مقدار کم ہو کر 32 کروڑ 57 لاکھ (325.7 ملین) بیرل رہ گئی ہے۔
یہ مئی 1983 کے بعد سے اب تک کی سب سے کم ترین سطح ہے۔ یہ کمی حالیہ عالمی بحران اور سپلائی کے شارٹیج کو پورا کرنے کے لیے ہنگامی بنیادوں پر تیل مارکیٹ میں لانے کے معاہدے کے تحت دیکھی جا رہی ہے۔
واضح رہے کہ امریکا نے اپنے سٹریٹجک پٹرولیم ذخائر کا قیام 1975 میں اس وقت عمل میں لایا تھا جب عرب ممالک کی جانب سے تیل کی ناکہ بندی (ایمبارگو) نے واشنگٹن کی توانائی کی سلامتی کے نظام کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا تھا۔ پبلک رپورٹنگ کرنے والے ممالک میں امریکا کے پاس دنیا کا سب سے بڑا تیل کا ذخیرہ موجود ہے، جس میں تیل رکھنے کی زیادہ سے زیادہ گنجائش تقریباً 72 کروڑ (720 ملین) بیرل ہے۔





