لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

امریکی صدرڈونلڈٹرمپ کےخلاف فوڈامپورٹرکابڑامقدمہ:کینیڈین پنیرپر50فیصدٹیرف کےخلاف عدالتی چیلنج، سالانہ4کروڑڈالر کےنقصان کاخدشہ

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن / نیوجرسی (ویب ڈیسک): امریکی ریاست نیوجرسی سے تعلق رکھنے والے خاندانی فوڈ امپورٹر ’گیلرٹ گلوبل گروپ‘ (Gellert Global Group) نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے خلاف کینیڈین مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف کے خلاف ‘یو ایس کورٹ آف انٹرنیشنل ٹریڈ’ (U.S. Court of International Trade) میں مقدمہ دائر کر دیا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ یہ اضافی محصولات غیر قانونی ہیں اور صرف کینیڈین چیز (Cheese) کی درامد پر اس سے سالانہ تقریباً 40 ملین (4 کروڑ) ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑے گا।

یہ قانونی چیلنج غیر منافع بخش قانون دان تنظیم ’لبرٹی جسٹس سینٹر‘ (Liberty Justice Center) کے ذریعے دائر کیا گیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ نے رواں برس گرمیوں میں ‘ٹیرف ایکٹ آف 1930’ کی دفعہ 338 (Section 338) کا سہارا لے کر کینیڈا سے آنے والی اشیاء پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیا تھا، جسے ستمبر میں بڑھا کر گیلرٹ گروپ کے امپورٹ کردہ پنیر پر بھی لاگو کر دیا گیا تھا।

لبرٹی جسٹس سینٹر کی سی ای او سارہ البرچٹ (Sara Albrecht) کے مطابق، یہ مقدمہ کسی صدر کے خلاف نہیں بلکہ صدارتی اختیارات کی حد بندی کے لیے ہے۔ آئین کے تحت ٹیرف عائد کرنے کا اختیار کانگریس کے پاس ہے اور 1930 کے غیر فعال قانون (Section 338) کے تحت بلا جواز محصولات لاگو کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔

شکایت کے مطابق 28 ستمبر کو گیلرٹ گروپ نے کینیڈا سے $120,000 مالیت کا گائے/بکری کے دودھ کا پنیر درامد کیا جس پر انہیں $60,000 سے زائد کی کسٹم ڈیوٹی بھرنی پڑی۔ ماضی میں یو ایس ایم سی اے (USMCA) معاہدے کے تحت ان اشیاء پر صفر ڈیوٹی تھی۔

واشنگٹن نے ان ٹیرفس کا جواز کینیڈا کی مبینہ امتیازی تجارتی پالیسیوں کو قرار دیا ہے۔ جواب میں کینیڈین وزیراعظم مارک کارنی (Mark Carney) نے اگست میں امریکہ کے ساتھ تجارتی مذاکرات معطل کر دیے تھے اور امریکی اشیاء پر جوابی ٹیرف لاگو کر دیے تھے۔

واضح رہے کہ لبرٹی جسٹس سینٹر کی جانب سے ٹرمپ کی ٹیرف پالیسیوں کے خلاف یہ چوتھا قانونی چیلنج ہے۔ فروری میں امریکی سپریم کورٹ نے بھی صدارتی ایمرجنسی ایکٹ (IEEPA) کے تحت لگائے گئے کچھ ٹیرفس کو کالعدم قرار دے دیا تھا