لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

امریکی محکمہ ہوم لینڈسیکیورٹی کابڑاایکشن: غذائی امداد (SNAP)کےفوائدمیں دھوکہ دہی پر غیرقانونی تارکینِ وطن کےخلاف ملک گیرکریک ڈاؤن،متعددگرفتار

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن (ویب ڈیسک): امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) اور امگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) نے ملک بھر میں ایک بڑا آپریشن شروع کرتے ہوئے ان غیر قانونی تارکینِ وطن کو گرفتار کرنا شروع کر دیا ہے جن پر فوڈ اسٹامپس یا سپلیمنٹل نیوٹریشن اسسٹنس پروگرام (SNAP) کے تحت غیر قانونی طور پر سرکاری فوائد حاصل کرنے کا الزام ہے۔

امریکی وزیرِ ہوم لینڈ سیکیورٹی مارک وین ملن (Markwayne Mullin) نے ایک جاری کردہ بیان میں کہا کہ “جو غیر قانونی تارکینِ وطن امریکہ میں رہنے کے اہل نہیں ہیں، انہیں کسی بھی صورت امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے چلنے والی SNAP گرانٹس اور فلاحی اسکیموں کو استعمال نہیں کرنا چاہیے۔

یہ پروگرامز صرف ضرورت مند امریکی شہریوں کے لیے ہیں”۔ انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ گرفتاریاں اور ڈی پورٹیشنز محض ایک آغاز ہیں اور ٹرمپ انتظامیہ اس قسم کی مالی دھوکہ دہی میں ملوث افراد کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی۔

انتظامیہ کی جانب سے جن افراد کی گرفتاری کی تصدیق کی گئی ہے ان میں ہائیٹی (Haiti) سے تعلق رکھنے والے غیر قانونی رہائشی ربسٹونی جونیئر تھیوڈور (Rubstony Junior Theodore) شامل ہیں، جو ماضی میں چوری اور پولیس مزاحمت جیسے جرائم میں بھی ملوث رہے ہیں۔ علاوہ ازیں ہائیٹی سے تعلق رکھنے والے ولبرٹ جین باسٹسٹ، لوئس جین، اور جہینسلی چارلس جبکہ کیوبا سے تعلق رکھنے والی ایلیسبتھ پوویا روڈریگز کو بھی حراست میں لیا گیا ہے۔

امریکی وفاقی قانون کے تحت غیر قانونی طور پر مقیم تارکینِ وطن پر SNAP یا دیگر وفاقی فوڈ اسسٹنس گرانٹس حاصل کرنے پر مکمل پابندی عائد ہے، جب کہ صرف قانونی دستاویزات رکھنے والے مخصوص غیر ملکی ہی اس کے اہل ہو سکتے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں آئس کے ایک وسیع اور پائیدار آپریشن کا حصہ ہیں جن کا مقصد امریکی ٹیکس دہندگان کی رقم سے چلنے والے فلاحی منصوبوں کا استحصال روکنا اور مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے غیر قانونی افراد کو جلاوطن کرنا ہے۔