سینٹ پیٹرزبرگ / واشنگٹن (ویب ڈیسک): روس میں یوکرین کے خلاف جنگ میں بطورِ مبینہ mercenary (کرائے کے سپاہی) حصہ لینے کے الزامات کے تحت گزشتہ چار برسوں سے قید 74 سالہ امریکی شہری اسٹیفن ہبارڈ (Stephen Hubbard) کو رہا کر دیا گیا ہے。 امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف (Steve Witkoff) نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے سینٹ پیٹرزبرگ میں ہونے والی اہم ملاقات کے دوران اس بات کی تصدیق کی ہے۔
روسی میڈیا کے مطابق صدر ولادیمیر پوتن نے “انسانی ہمدردی کی بنیاد پر” اسٹیفن ہبارڈ کی رہائی کا فیصلہ کیا جو کہ اس وقت سینٹ پیٹرزبرگ کے پلکوভো (Pulkovo) ایئرپورٹ پر موجود ہیں۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں بتایا کہ انہوں نے گزشتہ ہفتے ٹیلیفونک گفتگو کے دوران براہِ راست صدر پوتن سے اسٹیفن ہبارڈ کی رہائی کی درخواست کی تھی، جس کے احترام میں روس نے امریکہ کو بدلے میں کچھ دیئے بغیر انہیں رہا کر دیا۔
74 سالہ اسٹیفن ہبارڈ کا تعلق مشی گن سے ہے جو پیشے کے لحاظ سے ریٹائرڈ ٹیچر ہیں اور طویل عرصے سے یوکرین کے شہر ایزیوم (Izyum) میں مقیم تھے۔ سنہ 2022 میں روس یوکرین جنگ کے آغاز پر روسی پراسیکیوٹرز نے الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے یوکرین کی فوج کے ساتھ معاہدہ کیا تھا، تاہم ان کے اہل خانہ نے اس الزام کو سفید جھوٹ قرار دیا تھا۔
سٹیو وٹکوف نے روس پہنچ کر صدر پوتن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پوری امریکی قوم اسٹیفن ہبارڈ کی بحفاظت گھر واپسی پر شکر گزار ہے۔ واضح رہے کہ بائیڈن انتظامیہ کے دور میں یہ معاملہ تعطل کا شکار رہا تھا جسے اب موجودہ انتظامیہ نے کامیابی سے حل کر لیا ہے۔



