لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

اقوامِ متحدہ کانیاانتباہ:موسمیاتی تباہی سےبچنے کیلئےاگلے4 سالوں میں عالمی کاربن اخراج میں 18 فیصد کٹوتی لازمی

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نیویارک / نيروبی (ویب ڈیسک): اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کی جاری کردہ تازہ ترین ‘ایمیشنز گیپ رپورٹ’ کے مطابق دنیا کو شدید ترین موسمیاتی تبدیلیوں سے بچانے کے لیے اگلے 4 برسوں (2030ء) تک عالمی کاربن اخراج میں 18 فیصد اور اگلی دہائی (2035ء) تک 45 فیصد کٹوتی کرنا ہوگی۔

اقوامِ متحدہ نے واضح کیا ہے کہ سائنسی مشوروں کے مطابق عالمی درجہ حرارت میں اضافے کو 1.5 ڈگری سیلسیس تک محدود رکھنے کا “وقت اور موقع اب ختم ہو چکا ہے”، تاہم درجہ حرارت میں اس اضافے (Overshoot) کو کم سے کم رکھنا اب بھی ممکن ہے۔

اقوامِ متحدہ کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر انگر اینڈرسن (Inger Andersen) نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “ہم بار بار خبردار کرتے رہے لیکن ضروری ہنگامی اقدامات نہیں کیے گئے، جس کے باعث 1.5 ڈگری کی حد پر قائم رہنے کی کھڑکی اب بند ہو چکی ہے، لیکن اب بھی وقت ہے کہ ہم اس اضافے کی مدّت کو مختصر سے مختصر تر بنائیں”۔

رپورٹ کے مطابق دنیا میں چین کے بعد دوسرے سب سے بڑے آلودگی پھیلانے والے ملک امریکہ نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی قیادت میں پیرس کلائمیٹ معاہدے سے دستبرداری اختیار کر لی ہے اور فوسل فیول (تیل و گیس) کی پیداوار بڑھا رہا ہے۔ کلائمیٹ تھنک ٹینک کے سربراہ بل ہیئر نے امریکی اور سعودی پالیسیوں کو “آگ پر پیٹرول چھڑکنے” سے تعبیر کیا۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ اگر دنیا موجودہ پالیسیوں پر ہی قائم رہی تو عالمی درجہ حرارت میں 2.8 ڈگری سیلسیس کا ہولناک اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگر تمام ممالک اپنے حالیہ وعدوں پر عمل درآمد کر بھی لیں، تب بھی درجہ حرارت 2.6 ڈگری سیلسیس تک بڑھے گا جو دنیا کے بڑے حصے کو غیر مسکون بنا دے گا۔

ماہرین نے واضح کیا ہے کہ درجہ حرارت کو فوری طور پر قابو میں لانے کا ایک موثر طریقہ میتھین (Methane) گیس کے اخراج میں تیزی سے کمی لانا ہے، کیونکہ یہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کے مقابلے میں 80 گنا زیادہ مؤثر اور خطرناک گرین ہاؤس گیس ہے۔