لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

امریکی وزیرخارجہ مارکوروبیوکابھارت میں پاکستان کےساتھ امریکی تعلقات کادفاع

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نئی دہلی / واشنگٹن (ویب ڈیسک) امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو (Marco Rubio) نے اپنے دورہِ بھارت کے دوران بھارتی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں پاکستان کے ساتھ واشنگٹن کے دہائیوں پر محیط دیرینہ تعلقات کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی جغرافیائی اہمیت اور ایٹمی صلاحیت کے باعث اس کے ساتھ سفارتی تعلقات برقرار رکھنا امریکہ کی ضرورت ہے۔

رواں برس بھارت کے اپنے دوسرے سرکاری دورے کے دوران جب ان سے ایک سینیٹر اور اب امریکی وزیر خارجہ کی حیثیت سے پاکستان کے حوالے سے ان کے ماضی اور موجودہ موقف پر سوال پوچھا گیا تو مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ “بطور امریکی وزیر خارجہ میری ذمہ داری امریکی خارجہ پالیسی کو چلانا ہے، اور اس کا تقاضا ہے کہ ہم ان ممالک کے ساتھ بھی تعلقات رکھیں جن کے ساتھ ہمارے کچھ اختلافات موجود ہیں”۔

روبیو نے بھارت اور ایران کے تعلقات کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ جیسے بھارتی حکومت ایران کے رہنماؤں سے ملاقاتیں اور تعلقات رکھتی ہے، اسی طرح امریکہ کو بھی خطے میں پاکستان سے رابطہ رکھنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ امریکہ کے اچھے تعلقات بھارت کے لیے بھی مثبت ہو سکتے ہیں کیونکہ واشنگٹن اس پوزیشن میں ہوتا ہے کہ وہ بھارت کے تحفظات کو دور کرنے اور خطے میں امن قائم رکھنے کے لیے کردار ادا کر سکے۔

امریکی وزیر خارجہ نے اعادہ کیا کہ امریکہ دنیا میں کہیں بھی دہشت گردی اور اس کی سرپرستی کرنے والوں کے خلاف اپنی واضح اور سخت پالیسی پر قائم ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں فروری سے جاری جنگ اور آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کے تنازع پر بات کرتے ہوئے انہوں نے اعتراف کیا کہ تہران کے ساتھ ڈیل کرنا انتہائی مشکل ہے۔ تاہم، انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس وقت آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل اور توانائی کی بحری ترسیل جنگ سے پہلے کی سطح کے 80 سے 100 فیصد تک واپس بحال ہو چکی ہے۔